ڈیلی کرپشن رپورٹ برائے 31مئی2010

قرضہ لینے والے شخص کوبینک عملہ اٹھاکر لے گیا،جیوٹیم پربھی حملہ،کیمراچھین لیا

راولپنڈی (نمائندہ جنگ) قرضہ لینے والے ایک شہری کوبینک کا عملہ اٹھاکر لے گیا اس پر تشدد کیا جبکہ کوریج کیلئے آنے والی جیو ٹی وی کی ٹیم پر حملہ کرکے کیمرا چھین لیا گیا۔ نیو ٹاؤن پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کامران اعجاز نے نیو ٹاؤن پولیس کو بتایا کہ اس نے این آئی بی بینک رحمان آباد برانچ سے 2 لاکھ روپے قرضہ لیا جس کی ادائیگی کیلئے تقریباً 8 ہزار روپے ماہانہ قسط طے پائی وہ باقاعدگی سے قسطیں ادا کررہا تھا‘ رواں ماہ کی قسط ادا کرنا باقی تھی کہ بینک کے افراد اسے اٹھاکر بینک کی عمارت میں لے گئے جہاں اسے حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کیا گیا۔ مدعی کے عزیز و اقارب نے جیو نیوز کو واقعہ کی اطلاع دی جس پر جیو کی ٹیم اویس یوسفزئی رپورٹر اورافضال احمد کیمرا مین کے ہمراہ واقعہ کی کوریج کرنے موقع پر پہنچی۔ جیو کے رپورٹر اویس یوسفزئی نے بتایا کہ ہفتہ کی رات چھٹی کے باوجود بینک کی لائٹیں آن تھیں اور دروازوں پر لگے شیشوں سے اندر کا منظر دکھائی دے رہا تھا جہاں آٹھ دس افراد کامران اعجاز نامی شخص کو تشدد کا نشانہ بنارہے تھے۔ کوریج کے دوران اچانک بینک کے 15 سے20 افراد نے ان پر حملہ کردیا اور کیمرا چھین کرزمین پر دے مارا بعد ازاں ملزمان کیمرا اٹھاکر بینک کے اندر لے گئے۔ تھانہ نیو ٹاؤن پولیس اطلاع ملنے پرموقع پر پہنچ گئی۔ اویس یوسف زئی نے بتایا کہ پولیس کی آمد کے بعد 15 کے قریب ملزمان فرار ہوگئے جبکہ پولیس صرف 5 افراد کو پکڑسکی۔ جیو کی ٹیم نے پولیس حکام کو کیمرا چھیننے اور بینک کے اندر لے جانے بارے آگاہ کیا لیکن پولیس نے چھینا گیا کیمرا بر آمد نہ کروایا۔ ادھر نیو ٹاؤن پولیس نے کامران اعجاز کی رپورٹ پر اسے اغوا کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں 5 ملزمان یاور عباس‘ خاور رفیق‘ ہارون محمود‘ نعمان بٹ اور آصف مسیح کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ جیو کی رپورٹ پر ٹیم پر حملہ کرنے اور کیمرا چوری کرنے کے الزام میں بینک کے عملے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ جیو ٹی وی کے کیمرا مین افضال احمد کو مقامی ہسپتال میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد فارغ کردیا گیا ہے جب کہ کامران اعجاز کو ہولی فیملی ہسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت نے ریلوے کو اراضی فروخت کرنے سے باضابطہ روکدیا

اسلام آباد (طارق بٹ) پنجاب حکومت نے پاکستان ریلوے کو اپنی اراضی فروخت کرنے سے باضابطہ طور پر روک دیا ہے اور عوام کو متنبہ کیا ہے کہ صوبے کی طرف سے ایسی کسی بھی اراضی کا لیز جاری کیا جائے گا نہ منتقل کی جائے گی اور نہ ہی اس کی رجسٹریشن ہوگی۔ صوبائی انتظامیہ نے ڈویژنل کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں ریلوے کے سینئر افسروں کو سیکڑوں ایکڑ شہری اور زرعی اراضی کی لیز کیلئے نیلامی کے انعقاد سے فوری طور پر روکنے کیلئے کہہ دیں۔ اس فیصلے سے وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان سنگین بحران/ تنازع پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ اسلام آباد کے چھوٹے سے علاقے کے سوا ریلوے کی تمام اراضی صوبوں میں واقع ہے جس میں سے ہزاروں ایکڑ اراضی‘ غیر استعمال شدہ یا متروک پڑی ہے جبکہ ماضی میں ہزاروں ایکڑ اراضی ریلوے شہریوں اور کاروباری حضرات کو فروخت کرچکی ہے۔ پنجاب کا موقف بالآخر عدالتوں تک جائے گا کیونکہ پنجاب کا دعویٰ ہے کہ یہ اراضی ریلوے کو استعمال کیلئے دی گئی تھی اور اس اراضی کے استعمال کا کوئی منصوبہ نہیں ہے تو یہ پنجاب کو واپس کی جائے اور اسے کسی دوسری پارٹی کو فروخت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بنیادی طور پر یہ صوبائی پراپرٹی ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ ”بہت سے معاملات میں کمشنرز نے پنجاب حکومت کا فیصلہ متعلقہ حکام تک پہنچا دیا ہے کہ نیلامی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔ تاہم ڈی ایس ریلوے لاہور نے رابطے پر بتایا کہ کمشنر لاہور نے انہیں اس حوالے سے فون کیا تھا اور معاملے پر غور کیلئے اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے اراضی کے لیز کیلئے نیلامی کا فیصلہ ریلوے ہیڈ کوارٹرز نے کیا تھا اور وہی اس کو تبدیل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے کار پڑی اراضی کو استعمال میں لایا جارہا تھا۔ جاوید انور نے کہا کہ یہ طریقہ کار تو کئی برسوں سے اختیار کیا جارہا تھا انہوں نے بتایا کہ جب بھی ریلوے کو لیز پر دی گئی اراضی کی ضرورت ہوگی اسے خالی کرالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کو خالی چھوڑنے رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ تاہم پنجاب حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے عوام کی اطلاع کیلئے سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ عوام اس قسم کی نیلامی میں حصہ نہ لیں کیونکہ صوبائی حکومت ایسی پراپرٹی کو منتقل کرے گی نہ رجسٹر کرے گی اور اس پر تعمیرات کی اجازت بھی نہیں دے گی۔ لیکن جاوید انور نے بتایا کہ اس طرح سے لیز پر دی گئی اراضی کیلئے کسی منتقلی یا رجسٹری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ اراضی ایک مخصوص عرصے کیلئے عارضی استعمال کیلئے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہیڈ کوارٹرز کو صوبائی حکومت کی مشاورت سے فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کا مطالبہ ہے کہ اراضی آدھی انہیں دی جائے کیونکہ یہ ان کی ملکیت ہے۔ وفاقی سیکرٹری ریلوے سمیع الحق خلجی نے دی نیوز کو بتایا کہ اراضی کی لیز کا معاملہ ڈویژنل سطح پر ہینڈل کیا گیا جہاں انچارج افسران فیصلہ کرتے ہیں۔ پنجاب کے عہدیدار نے کہا کہ قانون کے مطابق اگر صوبوں کی طرف سے ریلوے کو دی گئی اراضی متعلقہ مقاصد کیلئے استعمال نہ ہوئی ہو اور سرپلس ہو تو اس کو صوبوں کی منظوری اور رضامندی کے بغیر نجی پارٹیوں کو فروخت یا لیز پر نہیں دیا جاسکتا۔ چند ہفتے قبل پاکستان ریلوے نے اراضی کو لیز پر دینے کیلئے عام پبلک کیلئے اخبارات میں اشہارات شائع کرائے تھے۔ لاہور‘ فیصل آباد‘ گوجرانوالہ‘ نارووال‘ حافظ آباد‘ قلعہ شیخو پورہ‘ اوکاڑہ اور تاندلیانوالہ کے اضلاع میں واقع مجموعی طور پر 207 جائیدادیں نیلام کرنے کی تجویز دی تھی۔ اراضی کو کمرشل‘ گودام‘ نرسری‘ کاشتکاری اور زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ لیزنگ کا عرصہ ایک سال سے 10 سال تک پر محیط تھا۔ درخواست دہندگان کو اراضی کی نوعیت کے حوالے سے پیشگی رقم 5 ہزار‘ 10 ہزار‘ 25 اور 30 ہزار تک جمع کرانے کیلئے کہا گیا تھا۔ کوٹ لکھپت میں واقع 162,161,160‘ 67 اور 68 ایکڑز پر مشتمل 5 جائیدادیں کمرشل استعمال کیلئے لیز کردینے کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس طرح گوجرانوالہ ضلع میں 1.26,1.12, 1.6 اور 3.22 ایکٹرز پر مشتمل 4 جائیدادیں لیز پر دینے کیلئے پیش کی گئی تھیں۔ پنجاب کے عہدیدار کا خیال ہے صوبائی حکومت کے انتباہ کے بعد عوام نیلامی میں حصہ لینے سے احتراز کریں گے اور ریلوے کو یہ نیلامی فوری روک دینی چاہئے۔

ہمیں سانحہ لاہور کی تفتیش سے باخبر نہیں رکھا جارہا،ڈائریکٹر قادیانی جماعت

لاہور (نمائندہ جنگ) قادیانی جماعت کے مرکزی رہنما اور جماعت کے ڈائریکٹر مرزا غلام احمد نے قادیانیوں کے ترجمان راجہ غالب کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو میں ہونے والے واقعات دہشت گردی کے علاوہ مذہبی دہشت گردی بھی ہے۔ پریس کانفرنس میں لاہور کے امیر ناصر احمد ملک بھی موجود تھے۔ مرزا غلام احمد نے مزید کہا کہ بعض علماء اور دیگر افراد کی طرف سے ہمارے خلاف ایک نفرت کی مہم چلائی ہے اور ہمیں واجب القتل کہا جارہا ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ہم ملک اور اسلام کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ تو اپنی بات کرنے کی اجازت ہے نہ کوئی جلسہ کرنے دیا جاتا ہے۔ ہمارے ٹورنامنٹ اور کھلے عام کھیل بند کردیئے گئے ہیں۔ تمام راستے بند کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل شہر میں ہمارے خلاف بینرز آویزاں کئے جارہے ہیں، اشتہار لگائے جارہے ہیں، ہمیں اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں۔ علماء لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکا رہے ہیں، ہماری جماعت احمدیہ کے خلاف مسلسل نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان بنانے والوں میں شامل ہیں۔ بھارت سے ہمارے جرنیل ہی لڑے۔ کیا ہم نے اس لئے قربانیاں دی تھیں کہ ہمارا یہاں جینا دوبھر کردیا جائے۔ ہم تو بول ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے خلاف اتنی بڑی نفرت کی مہم نہ ہوتی تو جمعہ کے روز ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو میں اتنی بڑی کارروائی نہ ہوتی۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آج کل کے حالات میں وہ ختم نبوت والوں سے مناظرہ کیوں نہیں کر لیتے تو انہوں نے کہا کہ 1974ء تک مناظرے ہوتے رہے لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ ہمیں کسی قسم کے مناظرے کرنے کی ضرورت بھی نہیں جبکہ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جمعہ کو جو دو واقعات رونما ہوئے اس کی تفتیش سے ہمیں باخبر نہیں رکھا جارہا۔ انہوں نے کہا ہمیں تحفظ نہیں دیا جارہا۔ ہم اپنی حفاظت خود کریں گے، اپنا ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ہر بات کو برداشت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کہاں لکھا ہے کہ ہم واجب القتل ہیں۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اس کو ایک ہولناک مذہب بنا دیا۔ہمیں ہمارے حقوق اور بولنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گرد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ کوئی مولوی یا علماء مذہبی طور پر بھڑکانے کی کوشش کرے تو فوری طور پر اس کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے 11 اگست 47ء میں جو تقریر کی تھی اسی میں ہمارا سب کا حل ہے۔

کراچی: صدر زرداری کے قریبی دوست تاجر ریاض لال جی کو اغوا کرلیاگیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ سیل، ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور اجناس کے معروف تاجر ریاض لال جی کو دبئی سے کراچی پہنچنے کے بعدگھر جاتے ہوئے شارع فیصل سے ڈرائیور اور سیکورٹی کارڈ سمیت اغواء کر لیا گیا، وہ 1998ء سے بیرون ملک مقیم تھے، واقعے کی تحقیقات کیلئے پولیس نے اعلیٰ سطح کی ٹیم تشکیل دے دی ،پولیس نے نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا، ریاض لال جی کیخلاف 1999ء میں نیب کورٹ نے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔ پولیس کے مطابق العباس گروپ کے مالک اور اجناس کے معروف تاجر ریاض لال جی اتوار کو علی الصبح 5 بجے دبئی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے۔214 کے ذریعے کراچی پہنچے تھے جہاں ان کا ڈرائیور کشن اور سیکورٹی گارڈ محمد احمد خان انہیں لینے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جناح ٹرمینل آئے تھے۔ ریاض لال جی ایئرپورٹ سے نکل کر ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ کے ہمراہ اپنے گھر واقع ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز III روانہ ہوئے مگر راستے میں ہی انہیں کسی نے اغوا کرلیا۔ ان کی کار نمبر ACQ-686 شارع فیصل پر میکرو شاپنگ مال کے قریب لاوارث کھڑی مل گئی تاہم ان کا ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ بھی لاپتا ہیں جن کے بارے میں پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ انہیں بھی ریاض لال جی کے ساتھ ہی اغوا کرلیا گیا ہے ۔ بعدازاں العباس گروپ کے منیجر ایڈمنسٹریشن میجر (ر) محمد طاہر خان کی مدعیت میں دفعہ 365 کے تحت ریاض لال جی، ڈرائیور کشن اور سیکورٹی گارڈ محمد احمد خان کے اغوا کا مقدمہ نمبر 284/10 ایئرپورٹ تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا۔ دریں اثناء کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کراچی وسیم احمد نے کہا ہے کہ کراچی سے اغواء ہونے والا تاجر ریاض لال جی کراچی پولیس، نیب یا کسی دوسرے ادارے کو مطلوب نہیں۔ اتوار کی شب ’جنگ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پولیس ان کے اغوا کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے، اس سلسلے میں ڈی آئی جی ایسٹ زون عبدالخالق شیخ کی سربراہی میں ایس ایس پی فاروق اعوان اور ایس ایس پی نیاز کھوسو پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو مختلف زاویوں سے تفتیش کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی سے ملنے والے ریاض لال جی کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے جس سے تفتیش میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی سے اغوا ہونے والے معروف تاجر ریاض لال جی بڑے پیمانے پر چاول اور کاٹن کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ 1998 میں اس وقت ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے جب سابق رائس ایکسپورٹ کارپوریشن آف پاکستان میں ہونے والے بعض گھپلوں میں ان کا نام سامنے آیا، ان پر غبن کے الزامات بھی لگے، 16 نومبر 1999 کو نیب کورٹ نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے مگر بیرون ملک مقیم ہونے کی صورت میں وہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ اس دوران وہ جنیوا، سوئٹزرلینڈ اور لندن، برطانیہ میں رہ کر پاکستان میں اپنا کاروبار چلاتے رہے۔ ان کی فرم العباس گروپ کا نام پاکستان اسٹیل میں ہونے والے اربوں روپے کے گھپلوں میں بھی سامنے آیا تاہم فرم چونکہ ان کی صاحبزادی اور ایک ڈائریکٹر آپریٹ کررہے تھے اس لئے مذکورہ دونوں افراد بھی بیرون ملک چلے گئے۔ پاکستان اسٹیل میں گھپلوں کے حوالے سے یہ لوگ پاکستان مسابقتی کمیشن کو بھی مطلوب تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاض لال جی بنیادی طور پر ایک کاروباری شخص ہیں مگر 1990 سے انہوں نے سیاست دانوں سے بھی اپنے تعلقات استوار کئے اور اس وقت ان کا شمار ملک کی اعلیٰ ترین شخصیت کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے۔

پنجاب بینک کو بھاری نقصان پہنچانے والے ہمیش خان کو 10 کروڑ روپے بونس دیاگیا

اسلام آباد ( انصار عباسی) بینک آف پنجاب اسکینڈل کے مرکزی ملزم اور مالیاتی ادارے کو بھاری نقصان پہنچانے والے ہمیش خان نے 2003 ء سے 2007ء کے درمیان کارکردگی بونس کے مد میں بینک آف پنجاب سے 10 کروڑ 50 لاکھ روپے حاصل کئے۔ تاہم یہ حقیقت بھی دلچسپ ہے کہ یہ بونس بینک آف پنجاب کے سابق صدر ،جو اس وقت امریکا کی جانب سے حوالگی کے بعد نیب کی زیر حراست ہیں، کو بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی منظوری کے بعد دیئے گئے ۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے کم از کم 5 ارکان کو ان کی مدت ملازمت کے دوران ہمیش خان کی سربراہی میں چلنے والی بینک آف پنجاب کی انتظامیہ نے اربوں روپے کے قرضے فراہم کئے جو واضح طور پر مفاد کے ٹکراوٴ کے زمرے میں آتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہمیش خان نے بینک آف پنجاب سے کارکردگی بونس کی مد میں 10 کروڑ 50 لاکھ روپے حاصل کئے ۔ انہیں 2003ء میں 22 لاکھ ، 2004ء میں ایک کروڑ 68 لاکھ ، 2005 ء میں 2 کروڑ 50 لاکھ، 2006ء میں 3 کروڑ 70 لاکھ اور 2007ء میں 2 کروڑ 40 لاکھ روپے ادا کئے گئے۔ بینک کے اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ بینک کے اعلیٰ عہدیداروں کیلئے کارکردگی بونس کا تعین بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے بعد بینک آف پنجاب کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے بھی تصدیق ہوئی کہ 5 ڈائریکٹرز سلمان صدیق ، گوہر اعجاز ، خرم افتخار ، فرید مغیز شیخ اور میاں لطیف نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکنیت کے عرصے میں بینک انتظامیہ سے اپنی ذات کو فائدہ پہنچایا جنہوں نے انہیں بھاری قرضے فراہم کئے۔ بینک آف پنجاب کے ذرائع نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیش خان کی میعاد عہدہ کے دوران قرضہ جات کے حوالے سے بینک کا پورٹ فولیو 7 ارب سے بڑھ کر 150 ارب روپے ہوگیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پورٹ فولیو میں اضافہ کریڈٹ دینے کے اختیار کے غلط استعمال ، لاپرواہی سے قرض دینے ، بینک پالیسی کی خلاف ورزی، دوسرے بینکوں کے واجب الادا قرضوں کو تحویل میں لینے اور کمزور ضمانتوں کی وجہ سے ہوا۔ بینک کے مفاد اور ڈیپازٹرز کی رقم کو تحفظ دینے کیلئے لاپرواہی سے دیئے گئے قرضے کو غلط کام کے طور پر ظاہر کیا گیا اس طرح مقروض بورڈ آف ڈائریکٹر کیلئے یہ انتہائی آسان ہوگیا جو نگرانی کرنے والوں کے بجائے اس دھوکا دہی میں مکمل شامل تھے۔ ہمیش خان نے حارث اسٹیل گروپ کے کاروبار ی معاملات کی مناسب جانچ پڑتال کیے بغیر 9 ارب روپے کا قرضہ منظور کروایا اور اس کے عوض جو ضمانت منظور کی گئی وہ فریب کاری پر مبنی تھی۔ بعد ازاں 2008 ء کے آغاز میں بورڈ آف ڈائریکٹر ز نے دھوکا دہی سے کام لیتے ہوئے اس قرضے کو منظور بھی کرلیا۔ بینک کی انتظامیہ نے حارث اسٹیل قرضے کو خراب یا فراڈ قرضہ ظاہر نہیں کیا جیسا کہ کیاجانا چاہتے تھا کیونکہ اس طرح بینک کو 2007ء میں 4 ارب 84 کروڑ روپے کاجھانسا دینے والے منافع کے بجائے قبل از ٹیکس 3 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا۔ مزید براں مارچ 2008ء میں نئی مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بورڈ کے برطرف کرنے سے ایک دن قبل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے ہمیش خان کو 2 کروڑ 40 لاکھ روپے کا کارکردگی بونس دیا۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینک آف پنجاب میں ان کے تقرر کو کلیئر کرنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وہ مالیاتی اداروں کیلئے متعین ایس بی پی کے پیمانے پر پورا اُترنے میں ناکام ہوگئے تھے۔تاہم اس وقت کے پرنسل سیکریٹری فنانس اور بینک کے ڈائریکٹر نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کو تجویز دی کہ ہمیش خان کو چیف ایگزیکیٹو کے اختیارات کے ساتھ بینک کا ایم ڈی مقرر کردیا جائے ۔ وزیر اعلیٰ فوراً ہی اس بات پر راضی ہوگئے۔ بینک آف پنجاب اسکینڈل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اس وقت کی قیادت پر کارکردگی کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھا دیئے ہیں جس نے ہمیش خان کے غیر قانونی تقرر کو نظر انداز کیا اور دوسری جانب نگاہ کرلی جب ڈائریکٹرز بینک پالیسی کی خلاف ورزی کررہے تھے اور ہمیش خان کو کروڑوں روپے کا بونس دیا جارہا تھا۔

آڈٹ رپورٹ 2009-10 سینٹرل زکوٰة فنڈ کے استعمال میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد (راناغلام قادر) سنٹرل زکوٰة فنڈ کے استعمال میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیوں اوربے ضابطگیوں کاانکشاف ہواہے یہ انکشاف مالی حسابات 2009-10 کے آڈٹ کے دوران ہواہے۔ رپورٹ کے مطابق جناح اسپتال لاہور، شیخ زائد اسپتال لاہور، انمول اسپتال لاہور، میو ہسپتال لاہور‘ المصطفیٰ آئی ٹرسٹ راولپنڈی، لیڈی ریڈنگ پشاور،لیاری ہسپتال کراچی کے اکاؤنٹس میں بے قاعدگیاں پائی گئیں۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ فنڈسے ملک کے صحت کے اداروں کوگرانٹس دی جاتی ہیں جسکے استعمال میں شفافیت کویقینی نہیں بنایا جارہا۔ جناح ہسپتال لاہور نے 2008-09 کے دوران 17لاکھ 23ہزار 282روپے کی ادویات بغیر اوپن ٹینڈرطلب کئے خریدیں۔ جو رولز کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح انمول ہسپتال لاہور کی ہیلتھ ویلفیئر کمیٹی نے دواؤں کی خریداری کیلئے سستی آفر نظرانداز کرکے مہنگے ریٹ قبول کرلئے۔ جس سے 27لاکھ 74ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ میو ہسپتال لاہورکے اسٹاک رجسٹر کو چیک کیاگیا تو معلوم ہواکہ وہاں 13لاکھ70 ہزار روپے کی ادویات پڑی تھیں جنہیں نہ استعمال میں کیاگیا نہ سپلائز کوواپس کی گئیں۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مستحق مریض کایقین لوکل زکوٰة کمیٹی کرسکتی ہے مگر ہیلتھ ویلفئیر کمیٹی نے غیر مستحق فراد کے علاج پر چھ لاکھ 10ہزار 896روپے خرچ کئے جن کی ریکوری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے ہیپاٹائیٹس کے علاج کیلئے 1413 مریضوں کو 8247 انجکشن ایشو کئے یہ انجکشن مارکیٹ میں 340روپے میں دستیاب تھا لیکن اسے 560 روپے فی انجکشن خریدا گیاجس سے 18لاکھ 4ہزار 340روپے کانقصان ہوا۔لیاری ہسپتال کراچی کو ضلعی زکوٰة کمیٹی نے سات لاکھ روپے کی امداد دی لیکن سنٹرل زکوٰة کونسل نے بھی لیاری ہسپتال کوامداد دی جو خلاف ضابط ہے۔ رپورٹ میں بعض بنکوں کی جانب سے زکوٰة کی کٹوتی سے غلط استثنیٰ دینے پر اعتراض کیاگیاہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اوپن چیک کے ذریعے مالی امداد نہ دی جائے۔ انٹرنل آڈٹ کو مستحکم بنایاجائے۔ عشر کی وصولی کی جائے اور ہیلتھ ویلفئیر کمیٹیوں کوپابند بنایاجائے کہ وہ آڈٹ کیلئے ریکارڈ فراہم کریں۔

لال جی کی پراسرار گمشدگی ، موجودہ صورتحال میں اہم اور معنی خیز تبدیلی

واشنگٹن (شاہین صہبائی)صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ریاض لال جی کی کراچی میں اتوار کی صبح پراسرار انداز میں اچانک گمشدگی موجودہ صورتحال میں ہونیو الی اہم تبدیلیوں میں سے ایک اہم معنی خیز تبدیلی کہی جا سکتی ہے ۔ پاکستان آنے سے چند گھنٹوں قبل وہ صدر کے بیرون ملک دوروں کے دوران معمول کے مطابق دبئی میںآ صف علی زرداری کے ساتھ تھے ۔ اتوار کی صبح 5بجے تک ان کی آمد کا کسی کو علم نہیں تھا۔ بعد ازاں صدر اس معاملے کو دیکھنے کے لئے خود کراچی تشریف لے آئے۔ان کے خاندان کے ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق لال جی کو وردی میں ملبوس افراد نے اٹھایاجو کہ سرکاری نمبر پلیٹ والی کار میں سوار تھے، جس سے ظاہوتا ہے کہ یا تو کسی جنگجو اور بہت منظم دہشت گرد گروہ نے ان کو اغوا ء کیا ہے یا پھر ہماری اپنی خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں ۔ دیگر رپورٹس کا کہنا ہے کہ اس میں کئی نوجوان لوگ ملوث ہیں ۔ان کی گمشدگی 12گھنٹے تک کیوں چھپائی گئی یہ بھی ایک معمہ ہے ۔ابھی تک اس امر کی تصدیق نہیں ہو پارہی کہ آیا ان کی گاڑی کی بھی ساتھ لے جائی گئی یا ان کے گھر بھیج دی گئی لیکن کچھ اطلاعات یہ ہیں کہ یہ گھر لی جائی جا چکی ہے۔ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ لال جی کے مسلح گارڈز یاڈرائیور نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کیونکہ ان کو ساتھ لے جایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ آپریشن کے حوالے سے کوئی خدشات سامنے نہیں آئے اور نہ تو کوئی جوابی کارروائی ہوئی اور نہ ہی ایسا ممکن تھا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس سارے معاملے کا فائدہ کس کو پہنچے گالیکن کیا کوئی کاروباری سودا غلط تو نہیں ہو گیا؟ ایک نظریہ یہ بھی ہے۔ ان کی خالی کار(جو کہ یقینی طور پر مہنگی اور ہو سکتا ہے بلٹ پروف بھی ہو) جہاں سے ملی وہ علاقہ ملیر سے قریب ہے جہاں خفیہ ایجنسیاں لوگوں کو تحقیقات کے لئے لے جاتی ہیں اور رکھتی بھی وہیں ہیں۔اغو اء کرنے والے فوراً ہی غائب ہو گے انہیں کسی نے روکا بھی نہیں، اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس وقت کوئی الارم نہیں بجایا گیااور نہ ہی کسی کو احساس ہوایہ کوئی مجرمانہ اقدام ہے ۔مطلب یہ کہ اگر انہیں ہماری ایجنسیوں نے اٹھایاہے ،جس کے امکانات بہت ہی کم ہیں، تو پھر انتہائی اہم واقعہ ہوگا کہ صدر زرداری کے پہلے ساتھی ہونگے جن کے ایسا سلوک ہو اور وہ بھی اس وقت جب دوست منصب صدارت پر فائز ہو ۔ ریاض لال جی کون ہے ،ان کو کون چلاتا ہے ،اور ان کے تفتیش کی جارہی اور وہ کیا کرنے جارہے ہیں، بہت زیادہ اہم سوالات ہیں جو کہ اٹھائے جائیں گے ۔لال جی ایک منجھے ہوئے بزنس مین ہیں ،میں ان کو 80ء کی دہائی کے اوائل سے جانتاہوں جب میں نے کراچی میں بزنس اور اکنامک رپورٹنگ کا آغاز کیا تھااور وہ اس وقت چاول برآمد کرتے تھے۔ اس وقت میں نے ان کے برآمدی گھپلوں پر کئی تحقیقاتی رپورٹس کی تھیں۔ایک روز انہوں نے مجھ سے اپنے کلفٹن میں موجود آفس میں ملنے کا کہا جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کی مشہور زمانہ رہائش گاہ 70کلفٹن کے پیچھے واقع تھا۔انہوں نے مجھے گرم کافی کا ایک کپ پیش کیااور مجھ سے یہ جاننا چاہا کہ میں ان کے پیچھے کیوں لگا ہوا ہوں۔’میں خبر کے پیچھے جاتا ہوں مجھے وہ جہاں لے جائے ‘یہ میرا جواب تھا۔’میری مدد کرو‘کہتے ہوئے انہوں نے اپنے ملازم سے میرے لئے تحفہ لانے کا کہا جو انہوں نے مجھے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ان کا ملازم ایک کھلا لفافہ لیکر آیااور جب میں اس میں دیکھا تو اس میں 100کے نوٹوں کی گڈی تھی ،شاید کے 10 ہزار روپے تھے ۔غصے اور حیرانگی کے عالم میں میں نے گڈی اٹھائی اور ان پر پھینک دی جو کہ انکے گرم کافی پر لگی اور وہ میز پر گر گیاجس سے ان کے کچھ کاغذات اور مہنگانیا لباس خراب ہو گیا۔میں انکے آفس سے باہر آگیا اور وہ بھی میرے پیچھے آگئے اور چلا کر مجھے رک کر بات کرنے کیلئے کہا۔ ان کا عملہ خوف اور دہشت کے عالم میں تھا۔ یہ ان کا معاملہ حل کرنے کا پہلا کاروباری طریقہ تھا۔جب وہ کا میاب نہ ہوئے تو انہوں نے میری خبروں کے حوالے سے مجھے اور میرے اخبار کو قانونی نوٹس بھجوانا شروع کر دیئے لیکن وہ یہ معاملہ کبھی عدالت میں نہیں لے گئے۔ان کے حوالے سے میں نے لکھا کہ وہ دبئی میں صدر زرداری کے سوتیلے بھائی ”ٹپی“ کے ساتھ زبردست رولز رائس میں موجود تھے اور اس کے بعد مجھے ان کی جانب سے ایسا آخری نوٹس مجھے 22جنوری 2010ء کو موصول ہوا۔نوے کی دہائی کے دوران لا ل جی چاول کے گھپلے میں پکڑے جانے کے بعد بڑا ملزم بن گیا۔ایک بہت ذہین تحقیقاتی صحافی محروم کلیم عمر کے مطابق نیب لال جی کے مفرور امریکی تاجر مارک رچ سے آر ای سی پی کے حوالے سے 1995-96مبینہ روابط کے حوالے سے تحقیقات کر رہا تھا، جس میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے شدید دباؤ کی بناء پر رائس ایکسپورٹ کارپوریشن آف پاکستان نے زیادہ کی بولی کے ہونے کے باوجود لاکھوں ٹن چاول رچ کی کمپنی کو بیچ دیئے تھے جس میں قومی خزانے کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔نومبر 1996میں پاکستان سے فرار ہونے والے لال جی کے مارک رچ سے کاروباری روابط تھے۔رائس ایکسپورٹ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر رچ کو بیچے گئے چاول لال جی کی کمپنی کے پاس پہنچے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیرون ملک بھاری منافع پر بیچ دیئے گئے۔اس وقت تک آر ایس سی پی رچ کو چاول بیچنے کا معاہدہ کر چکی تھی ۔ مفرور سرمایہ کار (رچ)اسرائیلی تھا ،جس کے بعد معاملہ اور بگڑ گیا۔ میں نے اپنی ایک خبر میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آر ای سی پی ایک اسرائیلی کو چاول بیچ کر کیا کر رہی ہے؟کلیم عمر کے مطابق اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔لال جی اس وقت پاکستان سے فرار ہو گئے اورحال ہی میں وطن واپس آکر اسٹیل کے کاروبار سے منسلک ہو گئے اور عباس اسٹیل قائم کی ۔یہ کمپنی جلد ہی پاکستان اسٹیل کے کئی کیسوں میں ملوث ہو گئی جن کی ایف آئی اے کی جانب سے ہفتوں کی تحقیقات کے بعد 23دسمبر کو کرپشن کے 4کیسز رجسٹر کئے گئے اور پاکستان اسٹیل کے سابق چیئر مین معین آفتاب شیخ ، اس وقت کے پاکستان اسٹیل مینجنگ ڈائریکٹر رسول بخش پھلپھوٹو، سابق دائریکٹر کمرشل سمین اصغر ، (لال جی کے)عباس اسٹیل گروپ کے 4ڈائریکٹروں کو نامزد کیا اور نوبل ریسورس آف سنگا پور کے نمائندے راشد ابڑو اور پیسفک چارٹرنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی کو مرکزی ملزم نامزد کیا۔ان ایف آئی آر ز کے مطابق پاکستان اسٹیل کو مختلف دھاندلیوں کے باعث 5ارب روپے کا نقصان ہوا۔ایک اور شاندار تحقیقاتی رپورٹر کامران خان کے مطابق رسول بخش پھلپھوٹو ،جسے ایف آئی آر 39/2009میں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے ،پاکستان اسٹیل کے منجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے لیکن ریاض لال جی کے عباس اسٹیل گروپ کے ساتھ کاروباری معاملات کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں لگائی ، حالانکہ عباس گروپ کے 3ڈائریکٹروں کو اسی ایف آئی آر میں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ان کے صدرزرداری سے پاکستان میں اور باہر تعلقات کا سب کو علم ہے ۔ ان کے چین اور کئی دیگر ممالک کے غیر سرکاری دوروں میں لال جی صدارتی قافلے کے اہم رکن ہوا کرتے تھے۔پاکستان اسٹیل میں تازہ خبر یہ ہے کہ وہ پاکستان اسٹیل کے ایک توسیعی منصوبے کے لئے بہت دلچپی سے کام کرہے تھے جس کے لئے 4جون تک کے اظہار دلچسپی کے خطوط بھی جاری کئے جا چکے ہیں ۔اس منصوبے کا مقصد پاکستان اسٹیل کی پیداواری صلاحیت کو 3سے 5ملین ٹن تک کرنا ہے جس کے کچھ کمپنیاں پہلے ہی چنی جا چکی ہیں جبکہ دیگر سراپا احتجاج ہیں ۔ سرکاری حلقوں میں لال جی کی روس میں ایک بینک کی خریداری اورایک گیس معاہدے کے کچھ حصوں میں دلچسپی پر بہت زیادہ گفتگو ہو چکی ہے ،ان دونوں معاملات میں کروڑوں ڈالر کا خرچہ ہوگا، لیکن لال جی ایسا کس کے کہنے پر کر رہے ہیں ، اس کا کسی کو علم نہیں ۔ انہیں حکومت کی جانب سے خصوصی اہمیت دی جارہی ہے اور ان کی کمپنی کے حوالے سے ایف آئی اے بھی درج کی جاچکی ہیں ۔ایک کیس سپریم کورٹ میں التواء کا شکار ہے جس کی سماعت یکم جون منگل کو ہو گی ۔یہ تقریباً 4ارب روپے سے زائد کے نقصان کا معاملہ ہے ۔جب ایف آئی اے کے ایماندار افسر طارق کھوسہ نے ان کے گروپ کے پاکستان اسٹیل کے رابطے کے حوالے سے تحقیقات کی کوشش کی تو فوراً ا س کا تبادلہ کر دیا گیا۔یہ وہی کھوسہ ہیں جن کو سپریم کورٹ نے بینک آف پنجاب کے کیس کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی ہے ۔جب ’دی نیوز‘کے ایک رپورٹر نے لال جی سے رواں برس جنوری میں رابطہ کیا اوران کی بیٹی کو دیئے گئے خصوصی سلوک کے حوالے سے پوچھا کہ آپ کی بیٹی کا نام ایف آئی اے کی واچ لسٹ سے غائب ہو تے ہیں 24گھنٹوں میں وہ پاکستان سے چلی گئیں حالانکہ وہ آ پ کی کمپنی کیڈائریکٹر تھیں۔ جب ان سے ان کا موقف جاننے کے لئے لال جی سے رابطہ کیا تو وہ غصے میں بھر گئے ۔ ان کا الفاظ یہ تھے : آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی اور نہ ہی آپ کو کاروباری برادری کا خیال ہے ۔ جس کے بعد انہوں نے تصدیق کی کہ انکی بیٹی پاکستان سے چلی گئی ہے ،بیٹی کے ایف آئی اے کی تحقیقات کے دوران پاکستان سے جانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’سبین لندن میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی۔ وہ وہیں رہتی ہے لیکن اسکا پاکستان آنا بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کی بیٹی ہی عباس اسٹیل ملز کی ڈائریکٹرہے۔

اشرافیہ کرپشن میں ملوث ہے، عدلیہ اور فوج بہتری کیلئے کام کریں، زاہد حسین

کراچی (ٹی وی رپورٹ) ممتاز صحافی زاہد حسین نے کہا کہ پوری اشرافیہ کرپشن میں ملوث ہے پارلیمان، عدلیہ، بیورو کریسی اور فوج کو بہتری کیلئے کام کرنا ہوگا، موجودہ حکومت پیپلزپارٹی کی بجائے ایک خاص گروپ پر مشتمل ہے، موجودہ حالات سے لوگ خاصے بدظن دکھائی دیتے ہیں، حکومت سے وابستہ عوام کی توقعات ایک فیصد بھی پوری نہیں ہوئیں، اس دور میں رشوت بڑھی ہے، پارلیمنٹ پر جوڈیشری کے چیک سے بہتر نتائج کی توقع ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو کے پروگرام ”میرے مطابق“ میں ڈاکٹر شاہد مسعود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں ممتاز سیاسی رہنما کبیر علی واسطی اور سینئر صحافی صالح ظافر بھی شریک گفتگو تھے۔ کبیر واسطی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور پارٹی مفادات کا گٹھ جوڑ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار چھ افراد نے پارٹی ڈسپلن کے نام پر پوری پارلیمان کو قبضے میں لیا ہوا ہے۔ صالح ظافر نے کہا کہ لوٹ مار میں مصروف حکمراں ٹولے سے ملک میں جاری خرابیاں دور کرنے کی توقع نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اربوں اور کروڑوں کے پروجیکٹس کی منظوری ایوان صدر میں دی جارہی ہے، عدلیہ نوٹس لے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کل لاہور میں جو کچھ ہوا، میں سوچ رہا تھا کہ اس کی مذمت کروں لیکن میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اس کی شرم کی جائے۔ ایک سو کے لگ بھگ بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر ہم صرف شدید دکھ کا اظہار ہی کرسکتے ہیں بحیثیت قوم ہمیں سوچنا چاہئے کہ کون کن ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ زاہد حسین نے کہا کہ لاہور کا واقعہ بہت ہی شرمناک تھا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس واقعہ سے پورے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ حقوق انسانی کے حوالے سے ہمارا تشخص خراب ہوا، ہمارے ملک میں مذہبی مقامات محفوظ نہیں ہیں عدم برداشت ہے اور یہ پیغام مستقل جارہا ہے۔کبیر علی واسطی نے کہا کہ کل پاکستان پر حملہ ہوا ہے، چاہے ان کا عقیدہ کچھ بھی ہو کوئی سیاسی جماعت بھی نظر نہیں آئی کہ اس ملک کو سنبھال سکے اتحاد بھی بنتا نظر نہیں آتا کوئی نہ کوئی نجات دہندہ ضرور پیدا ہوگا۔ خاص طور پر آخری امید عدلیہ ہے کہ تمام ادارے عدلیہ کے ساتھ چلیں تو یہ سب ٹھیک ہوسکتا ہے جس طرح کرپشن پر انہوں نے ہاتھ رکھا ہے، میرے علم میں ہے کہ افسران کس قدر ڈرتے ہیں غلط کام کرنے سے۔ صالح ظافر نے کہا جو لوگ طالبان کے نام پر یہ حرکتیں کررہے ہیں ان کے پیچھے سوچ کیا ہے ان کا عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کررہے ہیں مسلح افواج کو ہدف بنارہے ہیں سلامتی کے اداروں کو متزلزل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، معیشت پر حملہ آور ہورہے ہیں ان کا مقصد کسی ملک یا بین الاقوامی ادارے کے لیے کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا لوٹ مار میں ملوث حکمراں ٹولے سے ملک میں ہونے والی خرابیوں کی دور کرنے کی توقع نہیں۔ کبیر علی واسطی نے کہاکہ ملک میں صرف فوج اور عدلیہ ہی دو ادارے ہیں جن پر ملک وقوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور ان دونوں اداروں نے بعض اہم مواقع پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ زاہد حسین نے کہا کہ ماضی میں پرویز مشرف نے فوج کی طاقت کے بل بوتے پراقتدار پر قضبہ کیا جو غلط تھا۔ کبیر علی واسطی نے کہا کہ پرویز مشرف کا اقتدار سے چمٹے رہنا غلط تھا۔ صالح ظافر نے کہا کہ میرے عزیز ہم وطنو کہنے والوں سے تو عوام 9-10 سالوں میں تنگ آئے تھے لیکن موجودہ حکومت 2 سالوں میں ہی عوام کا اعتماد کھوچکی ہے، سیاسی عمل میں تطہیر سے ہی ملک وقوم کو بہتری میسر آسکتی ہے۔ تطہیر سے مراد یہ ہے کہ کرپشن میں ملوث شخص کو عدلیہ یا کوئی اور ادارہ بیک جنبش قلم اقتدار سے الگ کردے یا پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہوکر یہ قرار دے کہ کرپٹ لوگوں سے جان چھڑانی ضروری ہے یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس وقت جو جتنا بڑا کرپٹ ہے وہ اتنا ہی زیادہ محبوب ہے اتنا ہی زیادہ اس کو قرب حاصل ہے۔ کبیر علی واسطی نے کہا کہ پارلیمنٹ نے تو تمام تر اختیارات پارٹی سربراہ کو دے کر اسے آمرانہ قوت کا مالک بنادیا ہے۔ پارلیمنٹ اور پارٹی مفادات کا گٹھ جوڑ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔اس سوال پر کہ وزیراعظم کا چیف جسٹس کو کیا پیغام تھا کہ جس کے بعد خاموشی چھاگئی؟ صالح ظافرنے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ ہمارے وکیل آپ کی عدالت میں آئیں گے ایسی گفتگو نہیں ہوگی جس سے عدالت کی اہانت ہوتی ہو۔ بجٹ آرہا ہے آپ ہمیں تھوڑا وقت دیں تاکہ ہم بجٹ کو منظور کرلیں اس کے بعد عدالتی کارروائی آپ کا حق ہے۔ صالح ظافرنے کہا کہ بجٹ کے بعد محاذ آرائی نہیں ہو گی بلکہ عدلیہ وہ تمام امور نمٹائے گی جو پچھلے 4 ماہ سے معرض التواء میں پڑے ہیں ان چیزوں کو نمٹائے بغیر آئندہ کا مطلع صاف ہوتا نظر نہیں آرہا مثلاً این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد سے حکومت کے انکار پر اب سپریم کورٹ نے فیصلہ کرنا ہے۔ کبیر واسطی نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ 18ویں ترمیم پر حکومت پریشان ہے اور اس پریشانی میں اس نے چند وزراء کو اعتزاز احسن کے پاس بھیجا اور ان سے کہا کہ صدر صاحب نے کہاکہ آپ پارٹی کی جانب سے کیس لڑیں۔اعتراز تو مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے تھے لیکن بابر اعوان نے اسے سختی سے مسترد کردیا۔ کبیرواسطی نے کہا کہ اعتزاز احسن لاہور سے اسلام آباد آرہے تھے جہاز کے اندر ایک آدمی ان کے گریبان کو پکڑ کر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ آپ جیسے لوگ پارٹی کے اندر موجود ہیں اور جو لوگ بی بی کو خون میں تڑپتا ہوا چھوڑ کر بھاگ گئے وہ آج کابینہ کے محترم ترین وزراء ہیں اس نے باقاعدہ ان دو کا نام لیا بابر اعوان اور رحمن ملک۔ اعتزاز احسن نے کہامیں کیا کرسکتاہوں کہ صدر اور وزیراعظم بیٹھے ہیں کابینہ بیٹھی ہے میں تو آپ کی طرح پارٹی کا ایک کارکن ہوں۔ صالح ظافر نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم کرپٹ ٹولے کا حصہ ہیں، تطہیر لازمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو فیصل آباد، سمندری، کوئٹہ، کراچی میں جو لوگ سڑکوں پر مظاہرے کررہے ہیں وہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے نہ پارلیمنٹ بچے گی نہ ہی کرپٹ ٹولہ کو سرکوبی سے کوئی بچاسکے گا۔

چیئرمین نیب طارق کھوسہ کو تفتیشی ٹیم میں شامل کرنے کے حق میں ہیں

اسلام آباد (طارق بٹ) سپریم کورٹ کی ہدایت اور چیف جسٹس کو کروائی گئی یقین دہانیوں کے باوجود اس بات کا امکان نہیں کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایف آئی اے کے آفیسر طارق کھوسہ کو بینک آف پنجاب سکینڈل کی تفتیش میں معاونت کیلئے شامل کرنے کا حکم دینگے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت سے متعلق ابتدائی سرکاری ردعمل منفی تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم فیصلے پر عمل درآمد سے احتراز کریں گے۔ جمعہ کو اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کی جانب سے طارق کھوسہ کی خدمات کے حصول کیلئے چیئرمین نیب کی جانب سے بھیجے گئے خط پر فیصلہ توقع ہے کہ وزیراعظم رواں ہفتے کرینگے۔ احتساب مخالف طاقتور حکومتی حلقوں کے دباؤ کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرنے والے چیئرمین نیب نوید احسن کو یقین ہے کہ طارق کھوسہ کو تفتیش میں شامل کرنا حکومتی دباؤ کا مناسب جواب ہے۔ باخبر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ اگر وزیراعظم سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے طارق کھوسہ کو تفتیش میں معاونت کا ٹاسک دے دیتے ہیں تو پھر سینئر بیورو کریٹ طارق کھوسہ کے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس بات کا سوال نہیں پیدا ہوتا کہ وہ پنجاب بینک سکینڈل تفتیش کے حوالے سے کوئی حکومتی دباؤ قبول کریں گے۔ معتبر ذرائع اس امر پر متفق ہیں کہ وزیر قانون بابر اعوان چیئرمین نیب کی تجاویز سے اتفاق نہیں کریں گے اور وہ ماضی کی طرح اس بار بھی ٹال مٹول سے کام لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے نیب وزارت قانون کے انتظامی کنٹرول میں آیا ہے تو وزیراعظم کے لئے اس کی تمام سمریاں وزارت قانون سے ہی ہو کر جاتی ہیں۔ اگر کوئی کیس نیب کی جانب سے کسی دوسری وزارت کو بھیجا جاتا ہے جیسا کہ اب کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری کو خط تحریرکر دیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خط بھی لاء منسٹری کے پاس ہی آئے گا۔ وزیر قانون طبی معائنے کیلئے ان دنوں غیر ملکی دورے پر ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ بینک آف پنجاب سکینڈل کی انکوائری میں طارق کھوسہ کو شامل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ بابر اعوان کی دو ہفتے بعد واپسی تک کھینچا جائیگا۔ ان ذرائع نے وزیراعظم کے ایک حالیہ فیصلے سے آگاہ کیا جس میں سینئر عہدیداروں سے کہا گیا تھا کہ وہ عدالت پیشی سے قبل اٹارنی جنرل انوارالحق سے مشاورت کریں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ عدالت عظمیٰ کے سامنے کیا بات کرنی ہے اور کیا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب بے بس ہیں کیونکہ ان کے ادارے کے زیادہ تر افسران حکومت کے حمایتی ہیں۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ چیئرمین نیب کے پاس کوئی قابل ٹیم نہیں ہے کہ جس کی منصفانہ تفتیش پر وہ اعتماد کریں اور سپریم کورٹ کی مطلوبہ رفتار سے وہ کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے ہی حکومت کی کوشش ہے کہ نیب کو اس حوالے سے کام کرنے سے روکا جائے۔ ذرائع نے کہا کہ نیب چیئرمین کی حکومت سے دشمنی اس وقت شروع ہوئی جب چیئرمین نیب نے این آر او سے مستفید ہونے والوں کی فہرست میں صدر زرداری کا نام سرفہرست تھا۔ ذرائع نے کہا کہ چیئرمین نیب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ٹیم پنجاب بینک سکینڈل میں تفتیش کے حوالے سے سرکاری دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے طارق کھوسہ کو کیس میں تفتیش کیلئے شامل کرنے کی ہدایت کی تو چیئرمین نیب بڑے مطمئن دکھائی دیئے۔

ریاض لال جی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحویل میں ہیں، ذرائع

کراچی (اعجاز احمد، اسٹاف رپورٹر) مصدقہ ذرائع کے مطابق دبئی سے کراچی پہنچنے والے معروف تاجر ریاض لال جی کو ایک وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ ان کا ان کے ادارے کا نام سابق رائس ایکسپورٹ کارپوریشن آف پاکستان اور پاکستان اسٹیل ملز میں ہونے والے اربوں روپے کے گھپلوں میں سامنے آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ ریاض لال جی ذاتی طور پر کسی کیس میں مطلوب نہیں۔ مگر ان کی صاحبزادی اور ایک ڈائریکٹر مذکورہ گھپلوں کے کیسز میں تحقیقاتی اداروں کو مطلوب ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ متعلقہ تحقیقاتی ادارے نے انہیں اس انداز میں اپنی تحویل میں لیا۔ دریں اثناء ریاض لال جی کو تحویل میں لئے جانے کے حوالے سے متعلقہ تحقیقاتی ادارے کے اعلیٰ افسران سے اسلام آباد اور کراچی میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر متعلقہ افسران سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم مذکورہ تاجر کے کاروباری ادارے العباس گروپ کے مینجر ایڈمنسٹریشن نے ریاض لال جی، ان کا ڈرائیور کشن اور سیکورٹی گارڈ محمد ریاض خان کے اغواء کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کرایا ہے۔

بطور سیشن جج جسٹس آغا رفیق نے زرداری کے دو مقدمات سننے سے انکار کیا تھا

اسلام آباد (عثمان منظور) جہاں لوگ ابھی شیخ سلطان ٹرسٹ کے اربوں کے اثاثے صدر آصف علی زرداری اور ان کے رشتہ داروں کے حوالے کرنے سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے متنازع فیصلے پر ناخن چبا رہے تھے، اس کیس کے فریق میر مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو کے وکیل نے چیف جسٹس شریعت کورٹ پر کچھ سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور غنویٰ بھٹو کے وکیل عمر سیال نے ”نیوز“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک صدر آصف زرداری اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس آغا رفیق کی دوستی سے باخبر ہے اور یہ ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ انہوں نے دو مثالیں بھی دیں کہ جب جسٹس آغا رفیق نے بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج آصف علی زرداری کے کیس سننے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کیلئے اب یہ طے شدہ اصول اور ضابطہ اخلاق ہے کہ وہ اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کا کیس نہیں سنیں گے یہ اصول پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں عام ہے۔ حال ہی میں سندھ ہائیکورٹ کے ایک جج نے ایک کیس کی اس بناء پر سماعت سے انکار کردیا تھا کہ وہ دس سال قبل اس کے ایک فریق کی جانب سے بطور وکیل پیش ہوئے تھے۔ عمر سیال کا کہنا تھا کہ عوام میں عدلیہ کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اس قسم کے جذبے کی ضرورت ہے۔ عمر سیال نے مزید کہا کہ صدر زرداری سے جسٹس آغا رفیق کی دوستی مشہور ہے اور حیران کن امر یہ ہے کہ جب وہ ساؤتھ کراچی میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات تھے تو انہوں نے ایسے دو کیسوں کی سماعت سے انکار کردیا تھا جن میں آصف زرداری ملوث تھے۔ ایک بار 13 سال کے ٹرائل کے شروع میں اور ایک بار اس کے آخر پر میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کیس میں ایسا ہوا۔ جسٹس آغا رفیق نے دونوں بار ہائیکورٹ کو اس ریفرنس کے ساتھ کیس کہیں اور منتقل کرنے کی درخواست کی البتہ دونوں ریفرنسز عام آدمی کیلئے دستیاب نہیں ہیں تاہم انہوں نے خود کورٹ روم میں اپنے ساتھیوں کو اس کی وجہ آصف زرداری کے ساتھ تعلق بتایا تھا۔ عمر سیال نے کہا کہ جسٹس آغا رفیق کی زرداری سے ملاقاتیں جب وہ جیل میں تھے اور مرتضیٰ کیس میں زرداری کی قانونی ٹیم کی معاونت اور ان کی رہائی میں کردار کوئی راز نہیں۔ میں اس بات کا گواہ ہوں۔ دیگر سینکڑوں افراد میں اس کے گواہ ہیں جو باقاعدگی سے مقدمے کی سماعت میں شریک ہوتے رہے۔ آغا رفیق اچھے جج ہیں تاہم لگتا ہے وہ لمحاتی طور پر بھول گئے ہیں کہ انہیں اس وقت ججوں کے ”کوڈ آف کنڈکٹ“ پر عملدرآمد کرنا چاہئے تھا جب وہ اس بنچ کے رکن تھے جس نے اربوں روپے کے اثاثے اپنے اچھے دوست آصف زرداری کے سپرد کرنے کا فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کیلئے قانونی دستاویزات بنانے میں مصروف تھے کہ اسلم خاکی ایڈووکیٹ نے فیصلے کو چیلنج کر کے عدالت سے حکم امتناعی لے لیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں 1977ء کے اس وقت کے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ضیاء الحق کے دو ٹرسٹوں کا کنٹرول لینے کے احکامات ختم کردیئے تھے جن ٹرسٹوں کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی مالی معاونت سے رکھی تھی۔ ملک کے مختلف حصوں میں وسیع پراپرٹی کی ملکیت رکھنے والے ان ٹرسٹوں کا نام تبدیل کر کے شیخ زید بن سلطان النہیان ٹرسٹ اور شیخ سلطان ٹرسٹ رکھا گیا۔ اب وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں 1977ء کے مارشل لاء احکامات کو اسلام سے متصادم قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ حکومت کے زیرکنٹرول ان ٹرسٹوں کی ملکیت، پراپرٹی اور اثاثے بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے وارثوں کو دے دیئے جائیں۔

سٹی کورٹ میں ر وزانہ 10 ہزار افراد کی آمدورفت، ناقص سیکورٹی انتظامات، چیکنگ کا کوئی نظام نہیں

کراچی (بلال احمد/اسٹاف رپورٹر) سٹی کورٹ میں روزانہ 10/ ہزار سے زائد افراد کی آمدورفت ہونے کے باوجود سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات کئے گئے ہیں جس کے باعث سٹی کورٹ کسی بھی وقت دہشت گردوں کا آسان ہدف بن سکتا ہے جبکہ سندھ حکومت کے محکمہ ورکس اینڈ سروسز نے سٹی و ملیرکورٹس کی سیکورٹی کے لئے ماسٹر پلان تیار کر رکھا ہے تاہم سندھ حکومت کی جانب سے رقم جاری نہ کرنے کے باعث ماسٹر پلان دھرے کا دھرا رہ گیاہے۔ تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹس میں روزانہ 10/ہزار افراد 5/ سے زائد دروازوں سے آمد و رفت کرتے ہیں اورداخلے کے دوران چیکنگ کا کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا۔ سٹی کورٹ میں متعدد یار ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ کسی قیدی سے ملاقات کرنے کے لئے آنے والے ان رشتہ دار یا دوست اپنے ساتھ بھاری سامان قیدی کو دینے کے لئے لائے اور مبینہ طور پر ماسٹر کی کے ذریعے قیدی تالا کھول کر فرار ہوگئے جبکہ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ ملزمان کے عزیز و اقارب ٹوکریوں میں لائے گئے سامان کے نیچے اسلحہ رکھ کر لائے اور پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے کے بعد قیدی کو فرار کرانے میں مدد دی گئی۔ سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لئے کراچی بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے متعدد بار پولیس افسران سے میٹنگز کرکے مطالبہ کیا کہ سیکورٹی کے حوالے سے انتظامات بہتر کئے جائیں کیونکہ دیکھا گیاہے کہ پولیس افسران چند پیسوں کی خاطر قیدیوں کو اپنی مرضی سے موبائل فون پر کسی سے بھی بات کروا تے ہیں مرکزی دروازوں پر تلاشی نہیں لی جاتی جبکہ پولیس اہلکار قلفی، ٹافیاں و دیگر اشیاء فروخت کرنے والے افراد کو سٹی کورٹ میں داخل وو نے کی اجازت دیتے ہیں اور پھر ان سے مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے میں مصکوف دکھائی دیتے ہیں۔ وکلاء کی جانب سے بار بار اصرار کے بعد فروری 2010ء میں و رکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ اور وکلاء کے درمیان میٹنگز ہوئیں جس میں طے کیا گیا کہ سٹی کورٹ ا ور ملیر ڈسٹرکٹ کورٹس کی سیکورٹی کے لئے ماسٹر پلان مرتب کیا جائے گا جس پر سندھ حکومت کے محکمہ ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ نے ماسٹر پلان مرتب کیا جس کے تحت کام کا آغاز مارچ 2010ء میں کیا جانا تھا۔ اس ماسٹر پلان کے مطابق سیکورٹی کے لئے ضلع جنوبی، وسطی، شرقی اور غربی پر مشتمل سٹی کورٹ کی سیکورٹی پر 2/ کروڑ 15/ لاکھ روپے اور ملیر کورٹس کی سیکورٹی پر ایک کروڑ 13/ لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ سیکورٹی کو بہتر بنانے کیلئے 39/ لاکھ روپے کی لاگت سے سٹی کورٹ کے چاروں اطراف دیوار تعمیر کی جانی ہے اور 3/ چیک روم کے لئے 4/ لا کھ 65/ ہزار اور 5/ واچر ٹاور بنانے کے لئے 15/ لاکھ 30/ ہزار روپے کی رقم طے کی گئی ہے اس سول ورک میں کل 58/ لا کھ 96/ ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ پارٹ بی میں الیکٹرونکس سیکورٹی سسٹم میں سی سی ٹی وی کیمرے، واک تھرو گیٹ، ہائیڈرولک آٹو میٹک روڈ بلاکرز اور میکینکل ٹائر کلر کے لئے ایک کروڑ 56/ لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں اس طرح سٹی کورٹ میں سیکورٹی کے لئے کل 2/ کروڑ 15/ لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں اسی طرح ملیر کورٹس میں سول کام کے لئے 43/ لاکھ 67/ ہزار روپے اور الیکٹرونک کام کے لئے 90/ لا کھ روپے رکھے گئے ہیں تاہم محکمہ ورکس اینڈ سروسز رقم نہ ملنے پر کام کا آغاز نہیں کرسکا ہے۔ اس حوالے سے جب محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے اسسٹنٹ انجینئر عدانا سبطین سے رابطہ کیاگیات و انہوں نیجنگ کو بتایا کہ ورکس اینڈ سروسز کے پاس رقم نہیں آئی جیسے ہی حکومت رقم فراہم کرے گی ورکس اینڈ سروسز کام کا آغاز کردے گا جبکہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بیرسٹر صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی روز سے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو بار بار فون کرکے رقم فراہم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن حکام کی جانب سے مکمل خاموشی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے ایک وزیر کے لئے 2/ کروڑ سے زائد کیگاڑیاں خرید سکتی ہے لیکن سٹی کورٹ میں روزانہ ہزاروں آنے و الے افراد کی کوئی حیثیت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت سے کام کا آغاز نہ کروایا تو وکلاء جون سے ہفتے میں ایک دن کے لئے بائیکاٹ کریں گے۔

استحصالی نظام کے خاتمے کے بغیر مزدوروں کے حالات بہتر نہیں ہونگے، ڈاکٹر ضمیر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان عوامی تحریک سندھ کے صدر ڈاکٹر ایس ایم ضمیر نے صوبائی دفتر میں مزدور وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایک سرمایہ دارانہ نظام ہے جس میں دولت کی حیثیت ہے محنت کی نہیں۔ ایک کمیونزم ہے جس میں سب کچھ مین پاور ہے۔ سرمایہ کی کوئی وقعت نہیں ہے لیکن ایک آفاقی نظام جسے ہم مساوات محمدی یا اسلامی سوشلزم کا نام دیتے ہیں جس میں سرمایہ دار کواس کا جائز حق اور محنت کش کو معاوضہ ملتا ہے۔ یوم مئی کے موقع پر وزیراعظم نے محنت کش کی اجرت 7000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ہزار روپے ماہانہ کا اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے ایک طرف تو حکومت کے شاہانہ اخراجات ہیں، جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقے کا پرتعیش رہن سہن ہے اور دوسری طرف آئے روز پیٹرول، گیس، بجلی، آٹے، دال، چینی کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور ریٹیلرز کی من مانی قیمتوں نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے اور حکومت کا ان عناصر پر بالکل کنٹرول نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فرسودہ استحصالی نظام کو اسلامی سوشلزم سے تبدیل نہیں کیا جائیگا مزدوروں کے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔

امریکا، یورپ میں 80 فیصد تنازعات ثالثی مراکز میں طے ہوجاتے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امریکا اور یورپی ممالک میں گھریلو اور لین دین کے 80 فیصد سے زائد تنازعات عدالتوں میں آنے سے قبل ہی ثالثی مراکز میں طے کروالیے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں 90 فیصد سے زائد مقدمات براہ راست عدالتوں میں داخل کیے جاتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں یونین کونسلوں کی سطح پر افراد کی تربیت کرکے 70 فیصد مقدمات کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکا اور یورپی ممالک میں ثالثی مراکز (میڈئیشن سینٹرز) قائم ہیں اور عدالتیں فریقین کو اپنے تنازعات وہاں حل کروانے کی ترغیب دیتی تھیں جہاں فریقین کی رضامندی کی ساتھ تنازع حل کرکے دستاویزات تیار کی جاتی ہیں اور ایک بار معاملہ طے کر لیا جائے تو اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا تاہم اگر فریقین کسی نکتہ پر آمادہ نہ ہوں تو پھر مقدمہ عدالت میں لایا جاتا ہے اور اگر کوئی فریق براہ راست مقدمہ عدالت میں لے آئے تو مقدمہ ہارنے کی صورت میں اس فریق کو عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے۔ اسی لیے امریکااور یورپی ممالک میں بیشتر افراد اپنے تنازعات ثالثی مراکز (میڈئیشن سینٹرز) میں لے جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں پنچایت، جرگہ سسٹم اور یونین کونسلوں میں تربیت یافتہ افراد نہ ہونے اور فیصلے رضامندی کی بجائے مسلط کرنے کے باعث 90 فیصد افراد مقدمات کے لیے براہ راست عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں اور یہ تنازعات ماتحت عدالتوں میں بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں۔ ماتحت عدالتوں میں دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد سامان کی واپسی جیسے معمولی نوعیت کے مقدمات بھی سال ہا سال تک زیر سماعت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں صرف ایک ادارہ قائم ہے جو کراچی سینٹر فار ڈسپیوٹ ریزالویشن کے نام سے کام کر رہا ہے۔ مذکورہ ادارہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے اور اس کے چئرمین بورڈ آف گورنر (ر) جسٹس سعید الزمان صدیقی، ڈاکٹر جسٹس (ر) ظفر احمد خان شیروانی، وائس چیئرمین انور منصور خان، ممبران میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر کراچی، چیمبر آف کامرس کے سربراہ و دیگر شامل ہیں۔ مذکورہ ادارہ سندھ ہائیکورٹ سے منظور شدہ ہے۔

اے پی ایم ایس اوکے تاسیسی اجتماعات اورکراچی میں یادگارشہداء کی افتتاحی تقریب ملتوی

کراچی (پ ر)متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ملک کی صورتحال کے باعث 11، 12/جون کو پاکستان اورلندن میں اے پی ایم ایس اوکے یوم تاسیس کے اجتماعات اور19/جون کوکراچی میں یاد گار شہداء کی افتتاحی تقریب ملتوی کرنے اورایم کیوایم کی مالی صورتحال کے باعث ایم کیوایم کے انفارمیشن سیل کاشعبہ کیم ونگ کو بند کردیاہے ۔ یہ فیصلے خورشیدبیگم میموریل ہال عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی لندن اورپاکستان کے مشترکہ اجلاس میں کیے گئے جس میں رابطہ کمیٹی کے تمام اراکین نے شرکت کی۔

آل پاکستان میمن فیڈریشن کے انتخابات اتحاد پینل کامیاب، احمد چنائے صدر منتخب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان میمن فیڈریشن کے انتخابات برائے سال 2009-2011 میں اتوار کو اتحاد پینل نے کامیابی حاصل کر لی پولنگ صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک میمن فیڈریشن ہاؤس نیو ایم اے جناح روڈ پر جاری رہی جس میں میمن برادری نے تعلق رکھنے والی 80تنظیموں کے نمائندوں نے حصہ لیا ووٹر کی کل تعداد تین سو 53 تھی جبکہ کل تین سو 37 ووٹ کاسٹ کئے گئے۔ اتحاد پینل (گلاب کا پھول) سے صدر کے امیدوار احمد چنائی نے 196، جنرل سیکرٹری کیلئے عبدالرزاق ویانی نے 192، نائب صدر کیلئے محمد اقبال پاک والا نے 189، فنانس سیکرٹری کیلئے محمد یونس بکسرا نے 190 اور سینئر جوائنٹ سیکرٹری کے لئے محمد عارف، عبدالرزاق نے 194 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ مخالف فاروق موٹلانی پینل کے صدر کے امیدوار ایم حنیف موٹلانی نے 139، سینئر نائب صدر کیلئے الطاف ذاکر نے 148، سیکرٹری جنرل کے لئے ابوبکر خانانی نے 143، سینئر جوائنٹ سیکرٹری کیلئے عبدالحمید قاسم نے 144 جبکہ فنانس سیکرٹری کے امیدوار کاشف یونس خانانی 143 ووٹ حاصل کر سکے اتحاد پینل کو معروف تاجر عقیل کریم ڈھیڈی، اختر یونس، حاجی مسعود پاریکھ، یحیٰی پولانی اور دیگر کی حمایت حاصل تھی۔

سہیل وجاہت ہلال احمر کے چیئرمین، یاسین ملک دوبارہ صدر نامزد

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (ہلال احمر) سندھ کا سہ سالہ جنرل اجلاس گورنر ہاؤس میں گورنر سندھ اور سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عشرت العباد خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر سہیل وجاہت صدیقی کو چیئرمین اور سردار یاسین ملک کو آئندہ تین برس کے لئے دوبارہ نائب صدر نامزد کیا گیا۔ اجلاس میں کراچی برانچ کے چھ اراکین کا بھی انتخاب ہوا جبکہ ہر ضلع سے پراونشل کونسل کے لئے ایک ایک رکن کی نامزدگی کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں گزشتہ تین برس میں ہلال احمر کے تحت صوبے میں جاری سرگر میوں پر روشنی ڈالی گئی۔ گورنر سندھ نے اس عرصے میں صوبے میں ہلال احمر کی کارکردگی میں بہتری اور اضافے کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہنگامی صورتوں میں صوبے بھر میں ہلال احمر نمایاں طور پر ریلیف فراہم کرتی نظر آنا چاہئے۔

کراچی: صدر زرداری کے قریبی دوست تاجر ریاض لال جی کو اغوا کرلیاگیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ سیل، ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور اجناس کے معروف تاجر ریاض لال جی کو دبئی سے کراچی پہنچنے کے بعدگھر جاتے ہوئے شارع فیصل سے ڈرائیور اور سیکورٹی کارڈ سمیت اغواء کر لیا گیا، وہ 1998ء سے بیرون ملک مقیم تھے، واقعے کی تحقیقات کیلئے پولیس نے اعلیٰ سطح کی ٹیم تشکیل دے دی ،پولیس نے نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا، ریاض لال جی کیخلاف 1999ء میں نیب کورٹ نے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔ پولیس کے مطابق العباس گروپ کے مالک اور اجناس کے معروف تاجر ریاض لال جی اتوار کو علی الصبح 5 بجے دبئی سے پی آئی اے کی پرواز پی کے۔214 کے ذریعے کراچی پہنچے تھے جہاں ان کا ڈرائیور کشن اور سیکورٹی گارڈ محمد احمد خان انہیں لینے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جناح ٹرمینل آئے تھے۔ ریاض لال جی ایئرپورٹ سے نکل کر ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ کے ہمراہ اپنے گھر واقع ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز III روانہ ہوئے مگر راستے میں ہی انہیں کسی نے اغوا کرلیا۔ ان کی کار نمبر ACQ-686 شارع فیصل پر میکرو شاپنگ مال کے قریب لاوارث کھڑی مل گئی تاہم ان کا ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ بھی لاپتا ہیں جن کے بارے میں پولیس نے شبہ ظاہر کیا کہ انہیں بھی ریاض لال جی کے ساتھ ہی اغوا کرلیا گیا ہے ۔ بعدازاں العباس گروپ کے منیجر ایڈمنسٹریشن میجر (ر) محمد طاہر خان کی مدعیت میں دفعہ 365 کے تحت ریاض لال جی، ڈرائیور کشن اور سیکورٹی گارڈ محمد احمد خان کے اغوا کا مقدمہ نمبر 284/10 ایئرپورٹ تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا۔ دریں اثناء کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کراچی وسیم احمد نے کہا ہے کہ کراچی سے اغواء ہونے والا تاجر ریاض لال جی کراچی پولیس، نیب یا کسی دوسرے ادارے کو مطلوب نہیں۔ اتوار کی شب ’جنگ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پولیس ان کے اغوا کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے، اس سلسلے میں ڈی آئی جی ایسٹ زون عبدالخالق شیخ کی سربراہی میں ایس ایس پی فاروق اعوان اور ایس ایس پی نیاز کھوسو پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو مختلف زاویوں سے تفتیش کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی سے ملنے والے ریاض لال جی کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے جس سے تفتیش میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی سے اغوا ہونے والے معروف تاجر ریاض لال جی بڑے پیمانے پر چاول اور کاٹن کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ 1998 میں اس وقت ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے جب سابق رائس ایکسپورٹ کارپوریشن آف پاکستان میں ہونے والے بعض گھپلوں میں ان کا نام سامنے آیا، ان پر غبن کے الزامات بھی لگے، 16 نومبر 1999 کو نیب کورٹ نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے مگر بیرون ملک مقیم ہونے کی صورت میں وہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ اس دوران وہ جنیوا، سوئٹزرلینڈ اور لندن، برطانیہ میں رہ کر پاکستان میں اپنا کاروبار چلاتے رہے۔ ان کی فرم العباس گروپ کا نام پاکستان اسٹیل میں ہونے والے اربوں روپے کے گھپلوں میں بھی سامنے آیا تاہم فرم چونکہ ان کی صاحبزادی اور ایک ڈائریکٹر آپریٹ کررہے تھے اس لئے مذکورہ دونوں افراد بھی بیرون ملک چلے گئے۔ پاکستان اسٹیل میں گھپلوں کے حوالے سے یہ لوگ پاکستان مسابقتی کمیشن کو بھی مطلوب تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاض لال جی بنیادی طور پر ایک کاروباری شخص ہیں مگر 1990 سے انہوں نے سیاست دانوں سے بھی اپنے تعلقات استوار کئے اور اس وقت ان کا شمار ملک کی اعلیٰ ترین شخصیت کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے۔

پرائمری اسکول اساتذہ کی بھوک ہڑتال تیسرے روز بھی جاری

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پرائمری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن کی احتجاجی بھوک ہڑتال اتوار کو تیسرے روز بھی جاری رہی۔ پرائمری اسکول اساتذہ نے یہ احتجاجی بھوک ہڑتال وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے بیان پر ملک کے دیگر صوبوں کے اساتذہ کے مساوی الاؤنس اور اساتذہ پر تشدد کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے کر رکھی ہے۔ سینیٹر صفدر عباسی، ناہید خان، ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی، سابق سینیٹر عباس کمیلی اور دیگر نے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور ان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ سیاسی رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ جمہوری حکومت میں اساتذہ پر تشدد افسوسناک ہے۔ حکام کو تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کے جائزہ مسائل فوری حل کئے جائیں ۔اتوار کو تیسرے روز بھی صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق اور سیکرٹری تعلیم صدیق میمن سمیت محکمہ تعلیم کے کسی بھی ایڈیشنل سیکرٹری نے بھوک ہڑتال کیمپ کا دورہ نہیں کیا ۔

شکارپور: شر قبیلے کے دو گروہوں میں تصادم، 4 افراد ہلاک

شکارپور (نامہ نگار) تھانہ لکھی غلام شاہ کے قریب جہاں خان بس اسٹاپ پر شرقبیلے کے دو گروہوں میں دیرینہ تنازعہ پر فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے، مرنے والوں میں محبوب شر، لشکری جتوئی، ممتاز جتوئی اور نواب شامل ہیں۔ فائرنگ کی زد میں آکر دو نامعلوم افراد زخمی ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ شر قبیلے کے افراد میں بابو شر اور مسماة عزیزاں شر کی شادی پر تنازع شروع ہوا تھا۔ اس میں اب تک 10افراد قتل ہوچکے ہیں۔ دوسرا واقعہ لکھی غلام شاہ کے قریب لکھن او ر گھانگرو برادری میں زمین کے تنازع پر ہوا جس میں فرید احمد لکھن ہلاک ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اب تک اس تنازع میں 6افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

میرپور ماتھیلو: کوش قبیلے کی معزز شخصیت کا بیٹے اور پوتے سمیت قتل

میرپور ماتھیلو (نامہ نگار) جیون شاہ لنک روڈ پر سولنگی برادری کے مسلح افراد نے پرانی دشمنی پر کوش قبیلے کی معزز شخصیت بھاول کوش کو اس کے بیٹے اور پوتے سمیت قتل کردیا۔ مقتولین موٹر سائیکل پر سوار ہو کر گھر جارہے تھے۔ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، ہلاک ہونے والوں میں بھاول کوش کا بیٹا شھنو اور پوتا عبدالجبار کوش شامل ہیں۔ واضح رہے کہ واقعہ کوش اور سولنگی برادری کے دیرینہ قبائلی جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا۔ دونوں برادریوں کے 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بچل گبول گوٹھ میں علی گوہر گبول نامی شخص نے اپنی 20 سالہ بیوی امیراں کو کاری کا الزام دیکر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا اور خود آلہ قتل سمیت فرار ہو گیا۔ واگنی کے علاقے سے تعلق رکھنے والا رہائشی رشید لاشاری کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا اور اس کی لاش کھمبے پر لٹک گئی۔ ڈیڑھ گھنٹہ تک لاش کھمبے سے لٹکی رہی۔

گھوٹکی: مندر میں لوٹ مار

گھوٹکی (نامہ نگار) نامعلوم مسلح افراد نے ہندوؤں کے قدیم دربار ماتھیلو مومل جی ماڑی کے مندر میں داخل ہو کر یاتریوں کو یرغمال بنا لیا، نذرانے کی پیٹی کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے نکال لئے، مورتیوں سے سونے کے زیورات اتار لئے اور یاتریوں سے نقدی، موبائل فون اور دیگر سامان چھین کر فرار ہو گئے۔

خیرپور: سینٹرل جیل میں قیدیوں کا ہنگامہ ، 5 اہلکار یرغمال

خیرپور (بیورو رپورٹ) سینٹرل جیل میں قیدیوں نے ہنگامہ کر کے جیل پولیس کے 5اہلکاروں کو یرغمال بنا کر زخمی کر دیا جبکہ جیل پولیس نے لاٹھی چارج کر کے متعدد قیدیوں کو زخمی کر دیا، جیل پولیس کے دو شدید زخمی اہلکاروں مختار میتلو اور اسلام الدین رند کو علاج کیلئے سول اسپتال خیرپور منتقل کر دیا گیا جیل میں ہنگامہ آرائی سے متعلق بتایا گیا ہے کہ قیدیوں کی کسی مسئلے پر جیل پولیس کے ایک اہلکار کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد جیل میں ہنگامہ ہوگیا اور قیدی مشتعل ہو کر 5 اہلکاروں غلام شبیر جکھڑ نظام الدین مختار میتلو اور اسلام الدین رند کو یرغمال بنا کر بیرک نمبر 11 میں لے گئے جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا بعد ازاں مزید پولیس طلب کر کے یرغمال اہلکاروں کو رہا کرالیا گیا اور شدید زخمی اہلکاروں کو اسپتال بھیج دیا گیا جیل حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی کرنے والے قیدیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پریم یونین کا چارٹر آف ڈیمانڈ

سکھر( بیورو رپورٹ) پریم یونین نے 32 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ ریلوے انتظامیہ کو پیش کردیا، یونین رہنما ء اشتیاق آسی نے جنرل منیجر کو چارٹر آف ڈیمانڈ میں ریلوے مزدوروں کے اجتماعی مسائل کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یونین انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔

خیرپور:طلبہ پر تشدد کے ذمہ دار 20 پولیس اہلکار معطل

خیرپور(بیورو رپورٹ)طلبہ پر تشدد اور ناروا سلوک کا اعتراف، ڈی پی او خیرپور نے ایس ایچ او بی سیکشن اور یونیورسٹی انچارج سمیت 20 اہلکار معطل کر دیئے۔ اے ایس پی عمر سلامت نے انکوائری رپورٹ میں کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی درخواست پر پولیس فورس یونیورسٹی بھیجی گئی تھی ۔رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی جس پر ڈی پی خیرپور پیر محمد شاہ نے ایس ایچ او بی سیکشن طفیل بھٹو اور یونیورسٹی چوکی انچارج مہتاب عباسی سمیت 20 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا جبکہ ایس ایچ او بی سیکشن کی تنزلی کر کے اس کو اے ایس آئی بنا دیا گیا ہے۔

ملزمان نے بچی کو اغوا کر کے زخمی حالت میں کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا

حیدرآباد (بیورو رپورٹ) خیبرانی تھانے کی حدود خیبر سٹی گوٹھ میں تین سالہ کمسن بچی ارم میر بحر کونامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا اور برہنہ حالت میں کچرے کے ڈھیر میں پھینک کر فرار ہوگئے‘ بعد ازاں لڑکی کو نازک حالت میں سول اسپتال میں داخل کردیا گیا۔

الاؤنسز کی سمری واپس کرنے اور تشدد کیخلاف اساتذہ تنظیموں کی بھوک ہڑتال

حیدرآباد (بیورو رپورٹ) آل سندھ پرائمری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن (پ ٹ الف) اور جمعیت المدرسین کی جانب سے ٹائم اسکیل اور ٹیچنگ الاؤنس کی سمری واپس کرنے اور کراچی میں اساتذہ پر تشدد کے خلاف دوسرے روز بھی یہاں بھوک ہڑتال کی گئی جس میں پ ٹ الف ضلع حیدرآباد کے صدر ظہیر مرزا‘ عطاء الرحمان‘ شمس الدین چانگ‘ نور حسن کھوسو‘ جمعیت المدرسین کے خالد آفریدی‘ عامر شہزاد و دیگر نے جبکہ سپلا کے مرکزی رہنما پروفیسر یعقوب چانڈیو اور گسٹا کے ضلع صدر ضمیر خان‘ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے رہنماؤں کامریڈ جام ساقی‘ جے پرکاش‘ ڈاکٹر ہریش‘ پی ایم ایل (ن) کے شبیر چانڈیو و دیگر نے اساتذہ کی حمایت میں بھوک ہڑتال میں شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اگر اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو صوبائی بجٹ پیش ہونے کے دن کراچی میں 40 اساتذہ خود سوزی کریں گے۔

الیکشن کمیشن کا ’سٹریٹیجک‘ منصوبہ

ہر شخص کو ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا

الیکشن کمیشن نے بظاہر غیر معمولی خواہشات پر مبنی ایک پانچ سالہ سٹریٹیجک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران ملک میں ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً چالیس سے بڑھا کر پینسٹھ فیصد تک لیجانے کی بات کی گئی ہے۔

یہ اعلان انتخابی کمیشن کے سیکرٹری اشفاق احمد خان نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے نئے اہداف مقرر کیے جانے کے سٹرٹیجک منصوبے کی ایک اخباری کانفرنس میں نقاب کشائی کے موقع پر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کی غرض سے ایک آگہی مہم شروع کرے گا تاکہ ہر شخص کو ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انتخابی کمیشن کے سیکرٹری کا کہنا تھا کہ اس بابت ذرائع ابلاغ اہم ترین کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ’اس مقصد کے لیے ووٹر سوک ایجوکیشن پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت یہ مقصد سال دو ہزار بارہ تک حاصل کر لیا جائے گا۔ عورتوں، اقلیتوں اور خصوصی افراد کی شمولیت کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

انہوں نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے کہا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس منصوبے میں وضع کردہ اہداف اور مقاصد کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کو بہتر انتخابات کے ذریعے روشن جمہوری مستقبل دینے میں ان کا ساتھ دیں۔

اس مقصد کے لیے ووٹر سوک ایجوکیشن پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت یہ مقصد سال دو ہزار بارہ تک حاصل کر لیا جائے گا۔ عورتوں، اقلیتوں اور خصوصی افراد کی شمولیت کو بڑھانے کی کوشش کی جائے گی

انتخابی کمیشن کے سیکرٹری اشفاق احمد خان

امریکی امدادی تنظیم یو ایس ایڈ اور آئی ایف ای ایس کی امداد سے تیار کیے جانے والے اس منصوبے پر سال دو ہزار دس سے چودہ تک عمل درآمد ہوگا۔ اس منصوبے میں پندرہ اہم اہداف ہیں جو مزید ایک سو انتیس تفصیلی مقاصد میں تقسیم ہیں۔

سیکرٹری الیکم کمیشن کا کہنا تھا کہ انہوں نے متوسط طبقے کی منتخب ایوانوں میں نمائندگی یقینی بنانے کے لیے ایک تجویز کی جمایت کی ہے جو اگر حکومت منظور کرتی ہے تو ماہانہ پچیس ہزار روپے سے کم آمدن والے افراد کے لیے منتخب ایوانوں میں پچیس فیصد کوٹہ مقرر کیا جاسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کا یہ سٹریٹیجک منصوبہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران سیاسی جماعتوں، اراکین پارلیمان، سول سوسائٹی اور عام لوگوں کی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس منصوبے پر نو سے دس ارب روپے خرچ آئیں گے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق اس میں سے آدھی رقم بین القوامی امدادی اداروں جبکہ باقی حکومت سے متوقع ہیں۔

انتخابی کمیشن نے دیگر جو اہم اہداف اپنے لیے مقرر کیے ہیں ان میں مکمل شفافیت، تنظیم نو، صلاحیت بڑھنے کے لیے تربیت، معاشی آزادی، انتخابی قوانین کو یکجا کرنا اور ان کا اردو میں ترجمع، جدید ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال، انتخابی عملے کی تربیت، انتخابی شکایات کی شنوائی کے لیے نظام اور انتخابی فہرستوں کو منظم کرنا شامل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی تیاری میں اربوں روپے کے ضیاع کے بارے میں کہنا تھا کہ انتخابی کمیشن اسی کمپنی کے ذریعے ان غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس کمپنی کو نوٹس بھی جاری کیا جا رہا ہے۔

سیکرٹری انتخابی کمیشن نے اعتراف کیا کہ کمیشن کے دو ہزار عملے میں عورتوں کو نمائندگی محض ایک فیصد ہے جسے جلد کم از کم دس فیصد تک لایا جائے گا۔

سلمان احمد کی شدت پسندی کے خلاف جنگ

پاکستان کے راک سٹار سلمان احمد نے کہا ہے کہ وہ موسیقی کے ذریعے شدت پسندوں کے ساتھ ثقافتی جنگ لڑ رہے ہیں۔

سلمان احمد موسیقی کے ذریعے شدت پسندی کے مقابلے کو اپنا جہاد کہتے ہیں

سلمان احمد نے موسیقی کے ذریعے شدت پسندوں کے خلاف شروع کیے جانے والے جہاد کے بارے میں یہ بات برطانیہ میں بی بی سی کے ایک پروگرام میں کی۔

سلمان احمد ان دنوں برطانیہ میں ہیں جہاں وہ مسلمان گروپوں میں عدم تشدد اور برداشت کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی آپ بیتی ’ راک اینڈ جہاد‘ کی تشہیر کر رہے ہیں۔

سلمان احمد کے راک بینڈ کو جنوبی ایشیا کا یوٹو(u2) کہا جاتا ہے۔ ان کے تین کروڑ میوزک البم دنیا بھر میں فروخت ہو چکے ہیں۔

سلمان احمد کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف ثقافتی جنگ لڑ رہے ہیں جو ’ نیک لوگوں کے روپ میں قاتل ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند ایسے نوجوان کے قریب پہنچ چکے ہیں جو ان کے( سلمان احمد) کے بھی قریب ہیں۔ لیکن اُن کا یقین ہے کہ فن اور ثقافت کے ذریعے شدت پسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ ’ موسیقی میں طاقت ہے کہ وہ لوگوں کو متحد کر سکتی ہے اور یہ بات شدت پسند نہیں چاہتے ہیں۔‘

سلمان احمد جنہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے سنہ انیس سو نوے میں ڈاکٹر کے پیشے کو موسیقی پر ترجیح دیتے ہوئے میوزک بینڈ شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ تھا۔

انھوں نے میرا گٹار توڑنے کے بعد مجھے دھمکی دی کہ اگر دوبارہ گٹار بجانے کی کوشش کی تو گولی مار دیں گے، اس وقت میں نے پہلی بار انتہا پسندی دیکھی تھی

سلمان احمد

اٹھارہ سال کی عمر میں جب پاکستان میں فوجی صدر جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی سلمان احمد کو اُس وقت اپنے گٹار سے ہاتھ دھونے پڑے جب موسیقی کے ایک خفیہ پروگرام میں شدت پسند طلبا پہنچ گئے تھے۔

’ انھوں نے میرا گٹار توڑنے کے بعد مجھے دھمکی دی کہ اگر دوبارہ گٹار بجانے کی کوشش کی تو گولی مار دیں گے، اس وقت میں نے پہلی بار انتہا پسندی دیکھی تھی۔‘

سلمان احمد نے کہا کہ وہ موسیقی میں راک بینڈ لِڈ ذیپلنِ کے مداح ہیں جنہوں نے خاموشی اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

سلمان احمد ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں لیکن ان کا اکثر پاکستان جانا ہوتا ہے۔ سلمان احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت موجود گلوکار گوریلے کی طرح گانا گاتے ہیں۔

امریکہ میں بھی سلمان احمد کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ گزشتہ ماہ نیویارک کے ٹائم سکوائر میں پرفارمنس سے تقریباً اس وقت منع کیا ہی جانے والا تھا جب انٹرنیٹ میں ان کے نئے البم میں جہاد کے لفظ کی وجہ سے نیویارک کے میئر کو تشویش لاحق ہو گئی تھی۔

چھیالیس سالہ سلمان احمد نے اپنے جہاد کو ایک محنت طلب کام قرار دیا۔

’ مسلمان کمیونٹی اپنی ثقافت اور زبان کو ہائی جیک یا اغوا کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔‘ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب پچاس کروڑ ہے جو موسیقی، شاعری، رقص اور ہنسی مذاق سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن دنیا میں ان کا تاثر شدت پسندوں کا ہے۔

’ اگر شدت پسندی کا نظریہ اکثریت میں ہوتا تو وہ تین کروڑ میوزک البم فروخت نہیں کر سکتے تھے۔‘

سلمان احمد نے انتہا پسندوں کا یہ نظریہ سختی سے مسترد کر دیا کہ اسلام موسیقی سے منع کرتا ہے۔ ‘

’ میں نے قرآن پڑھا ہے اور اسلام پر عمل کرنے والا مسلمان ہوں، میرا یقین ہے کہ میرا ایمان میری تخلیق سے متاثر کرتا ہے، مسلمانوں کی چودہ سو سالہ ثقافتی تاریخ میں فنکار، گلوگار اور خوبصورت شاعری دیکھی جا سکتی ہے۔‘

میں شدت پسندوں سے کہتا ہوں کہ آپ اسلام کے لیے نہیں بول سکتے ہیں۔ آپ میرے لیے نہیں بول سکتے، میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر آپ جا کر اپنے آپ کو ُاڑانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے، اگر آپ خودکشی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کسی روحانی وصف کا سہارا نہ لیں

سلمان احمد

سلمان احمد نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مشرق اور مغرب کی موسیقی کو یکجا کر کے پیش کیا تھا۔ اِس کے علاوہ انہوں نے سخت سکیورٹی انتطامات میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک کنسرٹ کیا تھا۔

پاکستان میں اُن کے بڑے مداح موجود ہیں جہاں سنہ انیس سو نوے میں اُن کے بینڈ پر اُس وقت پابندی عائد کر دی گئی جب انھوں نے ایک گانے ’ احتساب‘میں سیاسی بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔انھوں نے کہا کہ’ انتہا پسند اس سے نفرت کرتے ہیں اور وہ کچھ بہتر کی بجائے اس پر پابندی لگانا پسند کرتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں بچے موسیقی سنتے ہیں اور بالی وڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں۔‘

’ میں شدت پسندوں سے کہتا ہوں کہ آپ اسلام کے لیے نہیں بول سکتے ہیں۔ آپ میرے لیے نہیں بول سکتے، میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر آپ جا کر اپنے آپ کو ُاڑانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے، اگر آپ خودکشی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کسی روحانی وصف کا سہارا نہ لیں۔‘

’ میرا روایتی ایمان خودکش حملوں میں معصوم بچوں اور خواتین کو ہلاک کرنے کی قعطاً اجازت نہیں دیتا۔‘ تو کیا آپ اپنے جہاد سے کامیابی حاصل کر رہے ہیں؟ اس پر سلمان احمد نے کہا کہ ’ ایک فنکار کا کام اس کے دل میں چھپے ہوئے جذبات کا اظہار کرنا ہے جو معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

ٹی وی میزبان کے خلاف مقدمے کی درخواست

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خالد خواجہ کے قتل کی رپورٹ درج کرنے پر غور کر رہے ہیں اور اس بارے میں فیصلہ بدھ کی رات یا جمعرات تک متوقع ہے۔

خالد خواجہ کے صاحبزادے اسامہ خالد نے منگل کی رات تھانہ شالیمار میں اپنے وکیل کے ہمراہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تحریری درخواست دی تھی۔ درخواست میں معروف صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر، عثمان پنجابی اور اغواء کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم ایشین ٹائیگرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

مارگلہ سرکل کے ڈی ایس پی نعیم اقبال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ اس معاملے کا تعلق ان کی حدود سے ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس درخواست پر مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ آج رات یا کل تک کر دیا جائے گا۔

خالد خواجہ کو ایشن ٹائیگرز نامی ایک غیرمعروف تنظیم نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اغوا کرنے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دستاویزی فلم بنانے کے لیے قبائلی علاقے گئے تھے۔

اوسامہ نے درخواست دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے انہیں انصاف ملے گا۔ ’میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ جب تک آڈیو ٹیپ نہیں آئی تھی وہ بھی ابہام کا شکار تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی۔‘

ان کے وکیل ایاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی درخواست میں ہر وہ حوالہ دیا ہے جس کا اس قتل پر اثر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ معلومات آڈیو سے اور کچھ مدد وزیرستان کے لوگوں سے ملی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اعلی عدالت سے بھی انصاف کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔

ایاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے درخواست میں جو الزامات عائد کیے ہیں ان کے لیے ثبوت مناسب وقت پر مہیا کریں گے۔ ’ان میں بعض باتیں قومی سلامتی سے متعلق ہیں جنہیں اسی وقت ظاہر کیا جائے گا۔‘

جیو ٹی وی کے میزبان حامد میر نے اس معاملے پر یہ کہتے ہوئے تبصرے سے انکار کیا ہے کہ انہیں ان کے وکیل نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے درخواست پر ان کا لیگل ونگ غور کر رہا ہے اور جمعرات کی صبح تک اس پر کوئی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

کوئٹہ میں فائرنگ، چار اہلکار ہلاک

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک

ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ایس ایچ او خالق داد کی گاڑی پر اس وقت گولیاں چلائیں جب وہ اپنے گھر سے تھانے جا رہے تھے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق حملے کے وقت گاڑی میں ایس ایچ او، ان کے ڈرائیور اور دو محافظ سوار تھے اور یہ چاروں افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ حملہ آور اس کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور لاشوں کو سول ہسپتال پہنچایا۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں ایک ڈی ایس پی سمیت دس سے زائد اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

شہزاد ملک

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بے نظیر بھٹو کے قتل کے معاملے میں جنوری2008 میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اس مقدمے کا عبوری چالان پیش کردیا ہے۔

اس چالان میں مرکزی ملزم کلعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق رہنما بیت اللہ محسود کے علاوہ گرفتار ہونے والے پانچوں ملزمان کے اقبالیہ بیان کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے جو انہوں نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں مجسٹریٹ کے سامنے دئے تھا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) کے ڈائریکٹر خالد قریشی کی جانب سے پیش کیے گئے اس عبوری چالان میں تین پولیس اہلکاروں کو اس قتل کے شواہد کو مٹانے، فرائض میں غفلت اور حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

ان میں سابق ایس پی راول ٹاون سرکل خرم شہزاد ، اے ایس پی اشفاق احمد اور اُس وقت کے تھانہ سٹی کے ایس ایچ او کاشف ریاض شامل ہیں۔

ان افسران سے متعلق چالان میں لکھا گیا ہے کہ ایس پی خرم شہزاد کی ڈیوٹی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنا تھی جس میں وہ ناکام رہے اس کے علاوہ انھوں نے لیاقت باغ کے باہر جائے حادثہ کو دھونے کے احکامات جاری کیے تھے جہاں پر بینظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

جبکہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جائے حادثہ کو دھونے کے احکامات اُس وقت کے سٹی پولیس افیسر راولپنڈی سعود عزیز نے دیے تھے تاہم انہوں نے یہ حکم اپنے تئیں نہیں دیا تھا۔

اے ایس پی اشفاق احمد جن کی ڈیوٹی لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر تھی، وہ اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تھے۔ جبکہ کاشف ریاض جو اُس وقت تھانہ سٹی میں تعینات تھے انھوں نے اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا تھا۔ ایس پی خرم شہزاد اور ایس پی اشفاق احمد کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے چالان پیش ہونے کے بعد اس مقدمے کا سابق چالان جو پنجاب پولیس کی طرف سے جمع کروایا گیا تھا اُس کو کلعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ چوہدری ذوالفقار کو بینظیر بھٹو کے مقدمے کی پیروی کے لیے سرکاری وکیل مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سردار اسحاق اس مقدمے میں بطور سرکاری وکیل پیش ہو رہے تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے عبوری چالان میں پندرہ گواہ رکھے گئے ہیں جبکہ اس سے پہلے پنجاب پولیس کی طرف سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے گئے چالان میں گواہوں کی تعداد نوے کے قریب تھی۔

یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل میں پانچ ملزمان کو جنوری سنہ دوہزار آٹھ میں گرفتار کیا گیا تھا ان میں حسنین گل، محمد رفاقت، اعزاز شاہ، محمد رشید ا ور شیر زمان شامل ہیں اور ان افراد پر عدالت کی طرف سے فرد جُرم بھی عائد ہوچکی تھی۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت بارہ جون تک ملتوی کردی گئی ہے جس میں ملزمان پر فرد جُرم عائد کی جائے گی۔

ریاض لال جی کی بازیابی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے عمل میں آئی ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک

ـ 6 گھنٹے 31 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

کراچی میں ریاض لال جی کی رہائشگاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کون سا گروپ یاکونسی تنظیم ان کےاغواء میں ملوث تھی ۔ آئی ایس آئی اور آئی بی کا ان کی رہائی میں بھرپور تعاون رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاض لال جی سے ملاقات شام کو ہوگی ریاض لال جی ابھی آرام کر رہے ہیں شام کو ہی ان سے مزید معلومات حاصل ہوسکیں گی ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی بھی شخص جسے اغواکیا گیا ہواسے بازیاب کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹرذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ ریاض لال جی کا ڈرائیور اور گن مین ابھی تک لاپتہ ہیں اور انہیں جلد بازیاب کرالیا جائے گا۔ ریاض لال جی کو بغیر تاوان ادا کئے ان کی رہائشگاہ پر پہنچا دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سی سی پی او وسیم احمد کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد  ریاض لال جی کو حب چوکی کے قریب ایک گاڑی میں لیکر جارہے تھے کہ وہاں پر پولیس ناکے کے قریب انہیں چھوڑ کرفرار ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو زیروکرائم سٹی بنا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ صدر آصف زرداری کے انتہائی قریبی دوست اور معروف تاجرریاض لال جی کو گزشتہ روز دبئی سےکراچی پہنچنے پراغوا کرلیا گیا تھا جس کے فوری بعد صدر نے وزیر داخلہ رحمان ملک کو کراچی طلب کرلیا جبکہ نامعلوم ملزموں نے انہیں آج تقریباً چوبیس گھنٹوں بعد رہا کردیا۔

بجٹ سے قبل 30 سے 40 فیصد خود ساختہ مہنگائی، عوام کی چیخیں نکل گئیں

ـ 6 گھنٹے 17 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

اسلام آباد (اے این این) بجٹ سے قبل 30 سے 40 فیصد خود ساختہ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دیں، حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق بجٹ 2010-11ءکے اعلان سے قبل ہی جڑواں شہروں کے دکانداروں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے ہر دو دن بعد گھریلو استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بھی بڑھا دی جاتی ہیں۔ ایک کلو دودھ کے ڈبے کی قیمت 56 سے بڑھا کر 62 روپے، چینی 65 سے 70، ، دالوں کی قیمت میں پانچ سے دس روپے فی کلو اضافہ، چاول 80 سے 110 روپے فی کلو کر دیئے گئے ہیں۔ سگریٹ 30 سے 40 فیصد بڑھا دیئے گئے جبکہ مرغی کا گوشت، انڈے، آلو اور پیاز کی قیمت میں بھی روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے، خود ساختہ مہنگائی پر عوام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ سے قبل اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھانے کا نوٹس لیا جائے اور مارکیٹ ریٹ سے زائد وصول کرنے والے دکانداروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانداروں نے ازخود ہی ریٹ بڑھا دیئے ہیں اور ہر دکاندار کا اپنا ریٹ ہے کسی نے بھی ریٹ لسٹ آویزاں نہیں کی۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بازاروں کا دورہ بھی نہیں کرتے جس کے باعث دکاندار من مانیاں کر رہے ہیں۔

چیئرمین نیب کا حکومتی دباﺅ پر استعفیٰ دینے سے انکار

ـ 9 گھنٹے 27 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

اسلام آباد (این این آئی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نوید احسن نے حکومتی دباﺅ کے باوجود اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے سے قبل استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے جبکہ حکومت نوید احسن کو ہٹا کر سوئس مقدمات کا ریکارڈ قبضے مےں لینا چاہتی ہے جو حال ہی مےں لندن سے منگوایا گیا تھا اور وہ چیئرمین کی نگرانی مےں ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ نوید احسن کو ہٹا کر کسی من پسند شخص کو چیئرمین نیب لگایا جائے اس لئے حکومت کی طرف سے نوید احسن پر دباﺅ ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں تاہم نوید احسن نے اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے سے قبل استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے ان کے عہدے کی مدت چھ جولائی 2011ءکو پوری ہوگی اگر حکومت نوید احسن کو زبردستی عہدے سے ہٹائے تو اسے سپریم جوڈیشل کونسل مےں ریفرنس بھیجنا پڑے گا اور ان سے استعفیٰ لینے کی ٹھوس وجوہات بتانا پڑیں گی۔

واپڈا، پیپکو حکام کی چپقلش کے باعث 5بجلی گھر سکریپ کے ڈھیر بن گئے

ـ 9 گھنٹے 28 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

لاہور (نیوز رپورٹر) واپڈا اور پیپکو حکام کی باہمی چپقلش نے 2170میگاواٹ کے 5بجلی گھروں کو استعمال نہ کر کے سکریپ کا ڈھیر بنا دیا ہے، صارفین کو ڈھائی روپے سے تین روپے فی یونٹ بجلی سے محروم رکھنے کے ساتھ کروڑوں روپے کی مشینری عدم توجہ سے بے کار ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق شاہدرہ کا 550میگاواٹ کا بجلی گھر، فیصل آباد کا 570میگاواٹ، ملتان کا 320میگاواٹ، گدو کا 410میگاواٹ اور جامشورہ کا 320میگاواٹ کا بجلی گھر گذشتہ 9برسوں سے بند پڑے ہیں۔ پیپکو اور واپڈا کی بیورو کریسی نے بجلی گھروں کو نظرانداز کرکے آئی پی پیز کو سسٹم میں جگہ دے دی جبکہ حکومت کا 7برسوں سے سرکاری فائلوں میں دبے متبادل توانائی کے 35ہزار میگاواٹ کے قابل عمل منصوبوں میں صرف 5ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں پر کام شروع کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آج جبکہ بجلی کا بحران اتنی شدت اختیار کر گیا ہے دو سے تین ماہ میں بجلی گھر دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں واپڈا کے سابق ممبر پاور سید تنظیم حسین نقوی کا کہنا ہے کہ ہمارے 3دریاﺅں سے 55ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور ہم نے صرف 8ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی۔ حکومت متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف کیوں نہیں جاتی حالانکہ تھرکول، کوئلے سے ڈیڑھ لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرکے 100سالہ ملکی بجلی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں جبکہ حکومت نے وزارت پانی وبجلی ،ترقیاتی ادارہ برائے متبادل توانائی ،پی پی آئی بی سمیت 3 مختلف وفاقی محکموں کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ اگلے ماہ تک تھر کول، ونڈ اور سولر انرجی کے مزید ایک درجن منصوبوںکی فزیبلٹی رپورٹ مکمل کریں تاکہ رواں برس کے آخر تک یہ منصوبے شروع کئے جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مذکورہ منصوبوں کو غیر ملکی کمپنیوں کے کنسورشیم اور عالمی مالیاتی اداروںکی فنڈنگ سے مکمل کیا جائے گا ۔اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس2004ءسے تقریباً 30 سے 35 ہزار میگاواٹ متبادل بجلی کے قابل عمل منصوبوں کی رپورٹس وزارت پانی و بجلی اور دیگرسرکاری محکموں کے پاس موجود ہیں مگر رینٹل پارو پراجیکٹس اور پرانے آئی پی پیز کمیشن کے چکر میں فزیبل منصوبے نظر انداز کئے جاتے رہے ہیں۔

33 وارداتیں‘ ڈاکوﺅں نے 7 گھر لوٹ لئے‘ ایم پی اے ثمینہ خاور حیات کی کار چوری

ـ 9 گھنٹے 25 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

لاہور (نمائندہ خصوصی) شہر میں مختلف وارداتوںکے دوران لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات، نقدی ، موبائل فون اور دیگر سامان لوٹ لیا گیا ،اور رکن صوبائی اسمبلی کی کار سمیت نصف درجن سے زائد موٹرسائیکلیں اورگاڑیاں چوری ہو گئیں ۔تفصیلات کے مطابق گلبرگ میں قصر نور شادی ہال کے باہر سے رکن صوبائی اسمبلی ثمینہ خاور حیات کی گاڑی چوری ہوگئی ، ہربنس پورہ میں اشتیاق کے گھر سے ڈاکوﺅں نے 14لاکھ،گارڈن ٹاﺅن اسداللہ کے گھر 12لاکھ ، ٹاﺅن شپ میں فیاض کے گھر 10لاکھ، نصیر آباد میں محمد علی کے گھر 7لاکھ، باغبانپورہ میں الیاس کے گھر 5لاکھ، چوہنگ میں رحمت کے گھر 5لاکھ اور نولکھا میں عاطف کے گھر سے 5 لاکھ مالیت کے زیورات اور نقدی لوٹ لی۔غازی آباد میں ڈاکوﺅں نے محمود اور اس کی فیملی سے 2لاکھ، اقبال ٹاﺅن میں میاں اکرام اور اس کی فیملی سے ایک لاکھ اور شاہدرہ ٹاﺅن میں جاوید اور اس کی فیملی سے ایک لاکھ کے زیورات اور نقدی چھین لی گئی ۔ شفیق آباد میں ڈاکوﺅں نے تحریک انصاف کے پی پی 138کے چیف آرگنائزر ایڈووکیٹ جنید رزاق سے 59ہزار روپے اور موبائل فون چھین لیا، مسلم ٹاﺅن، ساندہ، نصیر آباد، کاہنہ، جنوبی چھاﺅنی، غازی آباد، کوٹ لکھپت، ٹاﺅن شپ، ریس کورس،گجر پورہ، لوئر مال، راوی روڈ اور شفیق آباد کے علاقوں سے ڈاکوﺅں نے راہگیروں سے ہزاروں روپے اور موبائل فونز چھین لئے، شادباغ ، لٹن روڈ، اچھرہ اور غالب مارکیٹ کے علاقوں سے موٹر سائیکلیں چوری ہو گئیں جبکہ شیرا کوٹ ،شادمان اور شمالی چھاﺅنی کے علاقوں سے گاڑیاں چوری ہو گئیں۔

عسکریت پسند ایک سال سے قادیانیوں کی یورپی ممالک میں سرگرمیاں مانیٹر کررہے تھے

ـ 9 گھنٹے 52 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

لاہور (سلمان غنی) لاہور میں قادیانی مراکز پر حملوں نے عسکریت پسندوں کی نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ دیا ہے۔ ذمہ دار حکومتی ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے اہداف کو وسعت دینے کے فیصلہ سے بعض حکومتی ادارے آگاہ تھے لیکن وہ اس بنا پر تحقیقاتی عمل آگے نہیں بڑھا رہے تھے کہ ان کے پاس عسکریت پسندوں کی جانب سے قادیانیوں کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے ثبوت ہاتھ نہیں آرہا تھا گذشتہ آٹھ نو سال مےں عسکریت پسندوں نے قادیانیوں کی عبادت گاہوں کو ٹارگٹ نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ حملوں اور دہشت گردی کی ان وارداتوں کے ذریعے ثابت ہوا ہے کہ عسکریت پسند ایک سال سے قادیانیوں کی بعض یورپی ممالک مےں سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہے تھے۔ لندن اور جرمنی سے کنٹرول کئے جانے والے قادیانی ذرائع ابلاغ مےں عسکریت پسندوں کا ذکر خاصا موضوع بحث بنتا جا رہا ہے جس مےں قادیانی خود کو ایک مخالف فریق کے طور پر پیش کرتے ہےں، یورپی ممالک مےں قادیانیوں کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف اس کردار کی گذشتہ ایک سال سے نگرانی کی جا رہی تھی جنوبی وزیرستان مےں فوجی آپریشن کے باعث عسکریت پسند اس پر فوری ردعمل ظاہر نہیں کر سکتے تھے مگر خاموشی کا ایک وقفہ لے کر عسکریت پسندوں نے پہلا اور نیا ردعمل قادیانی مراکز پر حملوں کی صورت مےں دیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان دنوں اس امر پر غور کر رہے ہےں کہ قادیانی مراکز پر یہ حملے تسلسل برقرار رکھ سکتے ہےں یا نہیں؟ اس ضمن مےں پولیس کی تحقیقات اور قادیانی مراکز پر حملوں مےں اختیار کی گئی حکمت عملی کے بعض پہلو ابھی تک ذمہ دار حلقوں کو مطمئن نہیں کر سکے۔ ماڈل ٹاﺅن سے دو حملہ آوروں کی گرفتاری کے باوجود اب تک منظر عام پر آنے والی تحقیقات مےں چار حملہ آوروں کی تھیوری پر کئی سوالیہ نشانات ہےں۔ پولیس کی تفتیش صرف حملہ آوروں کی اس تعداد کی نشاندہی کرتی ہے جو ان کی کارکردگی کی خرابی کو ظاہر نہ کرے۔ درحقیقت ایک ہی وقت مےں ہونے والے دونوں حملوں مےں کچھ ایسے حملہ آور موجود رہے ہےں جو اس پورے عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق ماڈل ٹاﺅن مےں دو حملہ آوروں کے علاوہ تیسرا حملہ آور بھی تھا جو ابتداءمےں ہی خاموشی سے ایک موٹر سائیکل چھین کر فرار ہوگیا تھا۔ پولیس تفتیش مےں یہ کڑی کہیں پر بھی نظر نہیں آتی جو دراصل اس پہلو کو بے نقاب کرتی ہے کہ پولیس نے ابتدا مےں ہی تساہل اور نااہلی کا مظاہرہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں قادیانی مراکز پر حملوں کو قادیانیوں نے ایک خاص موقع کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لندن مےں قادیانیوں کے ایک اجلاس مےں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر مےں قادیانی کمیونٹی اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر دباﺅ ڈالے گی۔ اس ضمن مےں لندن، جرمنی، ناروے اور کینیڈا مےں موجود سرکردہ قادیانی اہم کردار ادا کریں گے۔ لندن اجلاس مےں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان مےں قادیانیوں کی اب تک اختیار کی گئی خاموشی کو غیر محسوس طور پر ختم کیا جائے گا اپنی مظلومیت اور اقلیتی گروہ کے طور پر ”امتیازی“ سلوک کو خاص طور پر اجاگر کیا جائے گا۔ ساتھ ہی قادیانی فکر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کو ہدف دیا گیا ہے کہ وہ ان کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے خاص ان کی جانوں کو لاحق خطرات پر زور دیں قادیانی ایک طرف پاکستان کے اندر اقلیتی حیثیت سے مطمئن نہیں دوسری طرف وہ زندگی کے تمام شعبوں مےں سرگرم کردار ادا کرنے کے باوجود اپنے خلاف ایک امتیازی سلوک کا ذکر کرتے ہےں، قادیانی مراکز آئندہ دنوں مےں ان مسائل کوخاص طور پر اجاگر کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ سے روابط بڑھانے پر غور کر رہے ہےں۔

سفیروں کی سیاسی بنیادوں پر تقرریاں عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

ـ 7 گھنٹے 19 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

اسلام آباد (قسور کلاسرا + دی نیشن رپورٹ) سفیروں کی سیاسی بنیادوں پر تقرریاں روکنے کے لئے کیرئیر ڈپلومیٹس نے ان کی اہلیت اور قابلیت اعلی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک مڈل کیرئیر سفارتکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے اس سروس کو ”تجاوزات‘ سے پاک کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دراصل یہ لوگ ملک کی نہیں بلکہ اپنے ”آقاﺅں‘ کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان ڈپلومیٹس کا خیال ہے کہ بیورو کریسی کی پولیٹیسائزیشن کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جونیئر کیرئیر افسروں کو جب افریقی اور ایشیائی ممالک میں موقع دیا گیا تو ان کی کارکردگی بے مثال تھی مگر جب سیاسی سفارتکار آئے تو انہوں نے ہر حاصل شدہ چیز گنوانا شروع کر دی۔ ذرائع کے مطابق سیاسی سفارتکار ملک کو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچاتے ہیں۔

بھارتی آبی دہشت گردی کیخلاف جماعة الدعوة اور کسان محاذ کی گنڈا سنگھ بارڈر سے قصور تک ریلی

ـ 7 گھنٹے 19 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

لاہور / قصور (نیوز رپورٹر + نامہ نگار + این این آئی) متحدہ کسان محاذ، پاکستان واٹر موومنٹ اور جماعتہ الدعو نے بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان بھارت سرحد گنڈا سنگھ والا بارڈر سے کچہری چوک قصور تک ریلی نکالی جس میں کسانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے سینکڑوں افراد نے شرکت کی، مظاہرین نے بینرز، پلے کارڈز کے علاوہ قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جب کہ بھارتی حکومت کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کرتے رہے۔ اس موقع پر بھارتی ”آبی دہشت گردی کا ایک علاج الجہاد الجہاد، پانی نہیں ہو گا تو جنگ ہو گی، جانیں دیں گے پانی لیں گے“، جماعة الدعوة کے کلمہ طیبہ والے پرچم نمایاں طور پر نظر آتے رہے ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈ، کتبے اور بینر بھی ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی آبی دہشت گردی کے خلاف پوری قوم مل کر جہاد کرے گی ”وزراءپاکستانی زبان بھارتی، انڈیا دریاﺅں میں پانی نہیں خون بہانا چاہتا ہے اور پاکستان میں توانائی کا بحران کشمیرکی آزادی سے حل ہو گا“ کے نعرے درج تھے۔ قبل ازیں مظاہرین سے پاکستان واٹر مومنٹ کے کنوینئر حافظ سیف اللہ منصور، جماعة الدعوة پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ خالد ولید، پاکستان متحدہ کسان محاذ کے ایوب میو و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پانیوں پر سے قبضہ چھڑانے کے لئے پوری پاکستانی قوم بھارت سے جنگ کے لئے بھی تیار ہے، 18کروڑ پاکستانی عوام بھوکے پیاسے مرنے کی بجائے بھارت سے لڑنے کو ترجیح دیں گے، انڈیا آبی دہشت گردی سے باز رہے اور یہ بات یاد رکھے کہ دریاﺅں میں پانی نہیں ہو گا تو پھر خون بہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت صرف پاکستانی دریاﺅں پر ہی نہیں پاکستان کی جانب آنے والے ندی نالوں پر بھی ڈیم بنا رہا ہے، پاکستانی دریاﺅں پر بننے والے ڈیموں کی تعمیر کی نگرانی اسرائیلی انجینئروماہرین کر رہے ہیں۔ بھارت متنازعہ ڈیموں کا پانی کھول کر جب چاہے پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پیدا کر سکتا ہے ہمیں ان سازشوں سے باخبر رہنا ہو گا۔ انڈیا 2014ءتک پاکستان کو صومالیہ بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ہمیں متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنانا ہو گا، بھارت کی پاکستان کو بنجر بنانے کی سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے، ہم اپنے خون سے کھیتوں کی آبیاری کر سکتے ہیں مگر بھارت کو چناب، جہلم کا پانی استعمال نہیں کر نے دیں گے ہم پاکستان کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں انڈیا باز نہ آےا تو 19 ستمبر کو کشمیر چکوٹھی کے بارڈر پر بھی سخت احتجاج کریں گے اور پانی کو حاصل کرنے کے لئے سری نگر تک جائیں گے۔ بھارت نے 18 کروڑ پاکستانیوں کے خلاف پانی روکنے کی جنگ چھیڑ دی ہے۔ قبل ازیں گنڈا سنگھ بارڈر تک ریلی کے نکالنے کا اعلان پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے کچہری چوک قصور میں ریلی کے شرکا کو زبردستی روک دیا۔ ریلی کے قصور پہنچنے پر جماعة الدعوة قصور کے امیر عبداللہ احمد نے ایک بڑے قافلہ کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کا پانی روکے جانے پر بھارت کے خلاف ہر فوم پر احتجاج کرے۔

کراچی : فائرنگ کے واقعات، پیپلز پارٹی کا کارکن اور ایک خاتون قتل، 2 نعشیں برآمد

ـ 9 گھنٹے 25 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

کراچی (این این آئی) کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کرکے پیپلز پارٹی کے ایک کارکن اور خاتون کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ 2 نعشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ حسین آباد میں کراچی حلیم والی گلی میں پی پی کا کارکن یوسف ڈاڈا اپنے پانچ ساتھیوں سمیت بیٹھا ہوا تھا کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی جس کہ نتیجہ میں یوسف دم توڑ گیا جب کہ دیگر پانچوں افراد زخمی ہو گئے انہیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد نامعلوم افراد نے دکانیں زبردستی بند کرا دیں اور علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی۔ علاوہ ازیں اورنگی ٹاﺅن نمبر چار پختون آباد میں نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر 40 سالہ کرم بی بی کو قتل کر دیا۔ دوسری جانب پاک کالونی میں ایک ڈرم سے 30 سالہ نوجوان اور فیروز آباد ٹریفک پولیس چوکی کے عقب میں جھاڑیوں سے ایک شخص کی تشدد زدہ نعش برآمد ہوئی ہے۔

کراچی : زرداری کے قریبی دوست‘ کرپشن سکینڈلز کے مبینہ کردار ریاض لال جی 2 ساتھیوں سمیت اغوا

ـ 6 گھنٹے 13 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

کراچی (نیوز ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور سٹیل ملز سمیت دیگر کرپشن سکینڈلز کے مبینہ کردار معروف تاجر ریاض لال جی دبئی سے واپسی پر ایئرپورٹ سے اپنے ڈرائیور اور محافظ سمیت گھر جاتے ہوئے اغواءہو گئے جس پر پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں کھلبلی مچ گئی جبکہ ڈی جی ایف آئی اے ظفراللہ خان نے ریاض لال جی کو تحویل میں لینے کی تردید کر دی ہے۔ تھانہ ایئرپورٹ نے اغواءکا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق معروف تاجر و العباس سٹیل ملز گروپ کے مالک ریاض لال جی گذشتہ روز دبئی سے پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچے تھے اور وہاں سے اپنے گن مین اور ڈرائیور کے ہمراہ گاڑی پر گھر جا رہے تھے کہ سرویئر مارکیٹ کے سامنے اغواءہو گئے۔ آن لائن کے مطابق پولیس ذرائع کا خدشہ ہے کہ انہیں خفیہ اداروں نے حراست میں لیا ہو گا تاہم پولیس افسران اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔ اے این این کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ مائیکرو سپر مارکیٹ کے سامنے چار گاڑیوں میں سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے ریاض لال جی کو اغواءکرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جبکہ ان کی گاڑی برآمد ہو گئی ہے۔ ادھر مختلف سکیورٹی اداروں کے اجلاسوں میں ریاض لال جی کے اغواءاور بازیابی کے معاملات پر غور کیا گیا۔ جبکہ ایک نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض لال جی کیخلاف مختلف مقدمات تھے جس پر انہیں ایف آئی اے نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے تاہم ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ظفراللہ خان نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا کہ ریاض لال جی کسی مقدمے میں نامزد ملزم نہیں تاہم ان کی کمپنی کیخلاف ضرور مقدمات موجود ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے پولیس نے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ دوسری جانب جی این آئی کے مطابق صدر زرداری نے واقعہ کے بعد وزیر داخلہ کو کراچی میں طلب کر لیا اور ذرائع کے مطابق رحمان ملک نے پولیس اور رینجرز کے اعلیٰ افسران کو طلب کر کے انہیں ہر قیمت پر ریاض لال جی کی برآمدگی 24 گھنٹے میں یقینی بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے اور توقع ہے مغوی کو آج کسی وقت بھی برآمد کرا لیا جائیگا۔

یکطرفہ حملے کی امریکی دھمکی حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے: عمران خان

ـ 6 گھنٹے 48 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

لاہور (خصوصی رپورٹر) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ کی پاکستان پر یکطرفہ حملے کی دھمکی غیرت کا دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے‘ جب تک ملک سے کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ نہیں ہوتا ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں‘ اگر پارلیمنٹ میں حقیقی اپوزیشن ہوتی تو آج ملک مسائل کی دلدل میں نہ پھنستا‘ کچھ لوگ جمہوریت نہیں بلکہ اپنی لوٹ مار بچانے کیلئے نظام کو بچانے کی بات کرتے ہیںوہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے پی پی 160سے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر کے انتخابی دفتر میں تحریک انصاف کے ڈویژنل صدر میاں محمود الرشید‘ طاہر اشرف بارا‘ مراد راس اور دیگر کے ہمراہ مختلف وفود سے خطاب کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا تحریک انصاف جمہوری اور عوامی جماعت ہے اور ہم ہر انتخابی فورم پر ظالموں کا مقابلہ کریں گے۔ دریں اثناء تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب حکومت کے ذمہ داروں نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 160 لاہور سے تحریک انصاف کے امیدوار ملک ظہیر عباس کھوکھر کے ہورڈنز اور بینرز اتروا دیئے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے صوبائی صدر احسن رشید، لاہور ڈویژن کے سربراہ میاں محمود الرشید نے پنجاب حکومت پر الزام لگایا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے حلقے میں دھونس اور دھاندلی کی جارہی ہے اور تحریک انصاف کے حامیوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخاب کو شفاف بنانے کے لےے حکومت پنجاب کی اس بزدلانہ حرکت کا نوٹس لیا جائے۔

سوئی ناردرن کے 800 افسر تین سال سے مہنگائی الاونس سے محروم

ـ 6 گھنٹے 35 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

لاہور (سٹاف رپورٹر) سوئی ناردرن مینجمنٹ نے اوگرا اتھارٹی کے حکم کے بر عکس اپنے ایگزیکٹو کیڈر کے800افسران کو گزشتہ 3سال سے مہنگائی الاونس کنزیومر پرائس انڈیکس دینا بند کر رکھا ہے جسکی وجہ سے ان افسران میں مایوسی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے حالانکہ اسکے برعکس کمپنی نان ایگزیکٹو کیڈر کے ملازمین کو گزشتہ برس 28فیصد مہنگائی الاونس اور دیگر بقیہ جات ادا کر چکی ہے اور یکم جولائی2009ءکا سی پی آئی پھر سے لاگو ہے۔ سوئی ناردرن میں اس وقت گریڈ 6تا 9 کے150 اور گریڈ 1تا5 کے 650 افسران کام کر رہے ہیں جنہیں گزشتہ تین سال کا 25سے30فیصد مہنگائی الاونس ابھی تک نہیں مل سکا۔ مہنگائی الاونس سے محروم افسران کا موقف ہے کہ انکے ساتھ کمپنی میں سوتیلی ماں کا سلوک کیا جا رہا ہے حالانکہ اوگرا اور سوئی ناردرن کا بورڈ آف مینجمنٹ اس کی ادائیگی کا حکم دے چکا ہے مگر اسکے باوجود اس پر گزشتہ تین سال سے کمپنی مینجمنٹ نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

لاہور پاسپورٹ آفس کے اہلکاروں کی اندھیر نگری

ـ 7 گھنٹے 41 منٹ پہلے شائع کی گئی

مکرمی! پاسپورٹ آفس کے باہر بے شمار ایسے لوگ اڈے لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں جو ہر آنے والے سے پاسپورٹ بنوانے کے بہانے رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جلدی پاسپورٹ بنوانے کا لالچ دے کر ہزاروں روپے لوٹ لیتے ہیں اس کے علاوہ پاسپورٹ کا عملہ بھی اس شرمناک کام میں پیش پیش ہے ہر دس منٹ کے بعد دفتر کے اہلکار باہر آتے ہیں اور شریف شہریوں سے جلدی پاسپورٹ بنوانے کا لالچ دے کر ہزاروں روپے وصول کر لیتے ہیں وزارت داخلہ سے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے پر زور اپیل ہے کہ فوری طور پر اس اندھیر نگری اور لوٹ مار کا نوٹس لیں۔(محمد اشرف اعظم لاہور 0300-4176155)

سوئس مقدمات کی بحالی کیلئے سپریم کورٹ کی ہدایات…. نواز شریف کی وارننگ اور صدر زرداری کی خوش بیانی

ـ 27 مئی ، 2010

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو پائوں تلے روندنے کے بجائے تسلیم کرے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ گزشتہ روز مری میں مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں‘ ہم حکومت کے نہیں‘ جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ حکومت لٹیروں سے قوم کو نجات دلائے‘ قوم اب مزید انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو این آر او زدہ وزیروں سے چھٹکارا دلایا جائے‘ انکے بقول حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ ہم نے جمہوریت کیلئے بہت سے خواب دیکھے تھے‘ جو چکناچور ہو گئے۔

دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے سوئس مقدمات کو دوبارہ نہ کھولنے سے متعلق حکومتی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرنے پر ڈاکٹر بابر اعوان کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی سے ان عناصر کی خواہشیں دم توڑ گئی ہیں‘ جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ حکومت اور عدلیہ میں تصادم ہونے جا رہا ہے۔ انکے بقول تمام ریاستی ادارے آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہے ہیں‘ حکومت نے پہلے بھی عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کیا ہے اور آئندہ بھی تسلیم کریگی۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاستی اداروں نے اپنی آئینی حدود میں رہ کر ہی فرائض سرانجام دینے ہوتے ہیں اور آئین میں جس ادارے کے جو اختیارات متعین کر دیئے گئے ہیں‘ ان سے تجاوز کرنا ہی نہیں‘ انہیں استعمال نہ کرنا اور اپنی آئینی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرنا بھی آئین سے انحراف کے مترادف ہے۔ قانون بنانا مقننہ‘ آئین بنانا آئین ساز اسمبلی اور آئین و قانون کی تشریح کرنا عدلیہ کی آئینی ذمہ داری ہے جبکہ آئین کی دفعات 189-190 میں تمام ریاستی اور انتظامی مشینری بشمول صدر‘ وزیراعظم‘ تمام وزارتوں‘ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی عدالتی فیصلہ کو اسکی روح کیمطابق متعلقہ فرد یا ادارے پر لاگو کرائیں گے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائینگے۔ یہ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کا بھی تقاضہ ہے جس کا قوم نے 18 فروری 2008ء کے انتخابات میں موجودہ حکمرانوں کو مینڈیٹ دیا تھا۔ عدلیہ کے احترام اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے وعدے اور دعوے کرنا اپنی جگہ مگر یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ پیپلز پارٹی کے حکومتی اور جماعتی عہدے داران عدالتی فیصلوں کی عملداری کو کبھی مقدم نہیں جانا اور جس فیصلے سے کسی حکومتی شخصیت یا حکومتی پالیسیوں پر زد پڑتی ہو‘ اس سے صرف عملدرآمد سے ہی گریز نہیں کیا جاتا‘ اسے متنازعہ بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے اور پھر عدلیہ کو پارلیمنٹ کی بالادستی کا ڈراوا بھی دیا جاتا ہے۔

موجودہ عہدِ اقتدار میں شروع دن سے اب تک کوئی ایک بھی مثال ایسی نظر نہیں آتی کہ حکومت نے کسی عدالتی فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرکے اسے نافذ کیا ہو‘ بلکہ ہر معاملہ میں عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت پیدا کی گئی جو سلطانی ٔ جمہور کے ثمرات ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ سب سے پہلے تو مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والی عدلیہ کی بحالی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور اس معاملہ میں اپنی سیاسی اور حکومتی حلیف مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تین مختلف مواقع پر بدعہدی کرکے اسے حکومت سے نکلنے اور اپوزیشن میں جانے پر مجبور کیا گیا۔ نتیجتاً میاں نواز شریف کو آزاد عدلیہ کی بحالی کیلئے سول سوسائٹی کے تعاون سے لانگ مارچ کرنا پڑا جس کے دبائو کے تحت حکومت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹوں کے تمام ججوں کو بحال کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس دبائو کے پیچھے جو بھی عوامل کارفرما تھے‘ انکے آگے تو حکومت نے سرتسلیم خم کرلیا مگر آزاد عدلیہ کو بحال کرکے بھی اسے خوشدلی سے تسلیم نہ کیا گیا اور حیلے بہانے سے عدلیہ کو زچ کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر کیلئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی دو بار بھجوائی گئی سفارشات کو مسترد کرکے ان سفارشات کے برعکس ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا جسے تقرر پانے والی شخصیات نے ہی قبول نہ کیا جس پر حکومت کو ہزیمت اٹھانا پڑی اور پھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آئینی تقاضے کے تحت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے مشاورت کرکے انکی سفارشات کی روشنی میں ججوں کے تقرر کا ازسر نو نوٹیفکیشن جاری کر دیا جبکہ اس سے قبل وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے فورم پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ججوں کو کسی لانگ مارچ نے نہیں‘ بلکہ انہوں نے خود اپنے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ بحال کیا ہے اور وہ یہ ایگزیکٹو آرڈر واپس بھی لے سکتے ہیں۔ دودھ میں مینگنیں ڈالنے کے اس طرز عمل سے عدلیہ کے احترام کے حکومتی دعوے بے وقعت نظر آتے ہیں جبکہ این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کے معاملہ میں تو حکومت نے عدلیہ کی آئینی اتھارٹی کو چیلنج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور چھ ماہ قبل صادر ہونیوالا یہ فیصلہ حکومتی انتظامی مشینری کی جانب سے ہنوز عملدرآمد کا منتظر ہے۔

یہ طرفہ تماشہ ہے کہ این آر او کو خود پارلیمنٹ نے قبول کرنے سے انکار کرکے اسے نظرثانی کیلئے سپریم کورٹ کے پاس بھجوایا اور وہاں اسکے دفاع کی ضرورت بھی محسوس نہ کی مگر جب سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے این آر او کو غیرقانونی اور کالعدم قرار دے کر اسکے تحت ختم کرائے گئے احتساب عدالتوں کے مقدمات بحال کئے اور سوئس عدالتوں میں بھی مقدمات کی بحالی کیلئے سوئس حکام کو مراسلہ بھجوانے کی حکومت کو ہدایت کی تو پہلے حیلے بہانے سے عدالت ِعظمٰی کے اس فیصلہ پر عملدرآمد سے گریز کیا جاتا رہا۔ صدر کو حاصل آئینی استثنیٰ کے جواز ڈھونڈے اور پیش کئے جاتے رہے اور پھر عدالت ِ عظمٰی کے روبرو اس فیصلہ پر عملدرآمد سے سرے سے انکار کر دیا گیا۔ سوئس مقدمات کی بحالی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے حکومتی اور جماعتی عہدیداروں کی جانب سے جو طرز عمل اختیار کیا گیا‘ وہ آئین و قانون سے انحراف اور توہین عدالت کے زمرے میں ہی نہیں آتا‘ عدلیہ کی آئینی اتھارٹی کو تسلیم نہ کرنے کے بھی مترادف ہے اور اسی بنیاد پر سابق اٹارنی جنرل انور منصور اور قانون و انصاف کے دو وفاقی سیکرٹریوں کو اپنے منصب سے مستعفی ہونا پڑا۔ عدلیہ کے عدم احترام اور عدالتی فیصلہ سے روگردانی کی اس حکومتی پالیسی کی بنیاد پر ہی سسٹم کے استحکام کیلئے فکرمند حلقوں کو تشویش لاحق ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومتی اور جماعتی قیادت ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کے بجائے پھر اسی راہ پر چل نکلی ہے جو بالآخر جمہوریت کی بساط الٹانے کا باعث بنتی ہے۔ اب سپریم کورٹ نے سوئس مقدمات کی بحالی اور سوئس اکائونٹس میں موجود 60 کروڑ ڈالر واپس لانے کیلئے حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دی ہے اور اس سلسلہ میں اب تک ہونیوالی کوتاہی کا تحریری جواب طلب کیا ہے تو بجائے اسکے کہ اپنے طرز عمل کی اصلاح کی جائے اور عدالت ِ عظمٰی کے فیصلہ کی روشنی میں سوئس مقدمات کی بحالی کے قانونی تقاضے پورے کئے جائیں‘ حکومتی عہدیدار اور بشمول صدر زرداری یہتاثر دیتے نظر آرہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے حکومت اور عدلیہ میں تصادم کے خواہش مندوں کے خواب پورے نہیں ہونے دیئے۔ یہ کسی کی خواہش کا نہیں‘ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کا معاملہ ہے جس سے حکومت اب بھی گریزاں ہے۔ میاں نواز شریف نے یقیناً اسی تناظر میں حکومت کو باور کرایا ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کو پائوں تلے روندنے کے بجائے انہیں تسلیم کرے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ یہ اسی صورت ہو گا جب عدالت ِ عظمٰی کی ہدایات کی روشنی میں سوئس عدالتوں میں مقدمات بحال کراکے سوئس بنکوں میں موجود 60 کروڑ ڈالر ملک میں واپس لائے جائیں گے‘ حکمران اس رقم کی ملکیت کو تو متنازعہ بنا سکتے ہیں مگر اس رقم کی موجودگی سے تو انکار نہیں کر سکتے اور قومی خزانے سے جانے والی یہ کوئی معمولی رقم نہیں ہے۔ اس کا عدالت کے روبرو ہی نہیں‘ قوم کو بھی حساب دیا جانا چاہئے جو انصاف کی عملداری کا تقاضہ بھی ہے۔

اس صورتحال میں مناسب یہی ہے کہ حکومت مزید تاخیری حربے اختیار کرنے اور دو آئینی اداروں کے ٹکرائو کی فضا پیدا کرنے کے بجائے این آر او کیس کے فیصلہ کی روشنی میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر من و عن عملدرآمد کردے‘ جس سے بچنے کا نہ حکومت کے پاس راستہ ہے اور نہ ہی آئین کی دفعہ 189-190 کی روشنی میں اسکی کوئی گنجائش موجود ہے۔

حافظ سعید کی رہائی پر بھارت کا بلاجواز واویلا

سپریم کورٹ نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی ضمانت پر رہائی کیخلاف وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کردی ہیں‘ تین رکنی بنچ نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر کسی بھی شہری کی آزادی سلب نہیں کی جا سکتی‘ بنچ نے یہ بھی قرار دیا کہ حکومت ممبئی حملوں اور القاعدہ سے تعلق کے حوالے سے ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ دریں اثناء بھارت نے کہا ہے کہ حافظ سعید کی رہائی کیخلاف اپیلیں مسترد ہونے سے مایوسی ہوئی ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپما رائو نے مزید کہا کہ بھارت حافظ سعید کو ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھتا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل ممبئی میں حملے ہوئے تو بھارت نے فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے اس کیخلاف آگ اگلنا شروع کر دی‘ حافظ سعید کو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا‘ بھارت یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا جس نے بھارتی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر حافظ سعید سمیت انکے ساتھیوں اور دیگر تنظیموں کے کئی رہنمائوں اور کارکنوں پر پابندی لگا دی جس پر حکومت پاکستان نے فوری طور پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں دھڑا دھڑ گرفتاریاں کیں‘ حافظ سعید کو نظربند کر دیا گیا‘ معاملہ ہائیکورٹ گیا تو اس نے گرفتاریوں اور نظربندی کو غیرقانونی قرار دیدیا۔ حکومت معاملہ سپریم کورٹ لے گئی تو اس نے بھی ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ آج پاکستان کی آزاد عدلیہ پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی‘ اگر سب سے بڑی عدالت نے حافظ محمد سعید اور انکے ساتھیوں کو بے قصور قرار دیا ہے تو اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ واقعتاً بے قصور ہیں۔ اس پر بھارت کی تکلیف اور واویلا بلاجواز ہے۔ بھارت کے حافظ سعید کو ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ سمجھنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی‘ بھارت زبانی کلامی تو الزام تراشی کرتا رہتا ہے‘ پاکستان کے بار بار اصرار پر بھی ثبوت پاکستان کے حوالے نہیں کر سکا۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند اپنی آزادی کیلئے سرگرم ہیں‘ آزادی کا حصول ان کا پیدائشی حق ہے‘ بھارت نے کشمیریوں کا یہ حق سلب کر رکھا ہے‘ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں تین جنگیں ہو چکی ہیں‘ کشمیر میں جاری جہاد کو ہر پاکستانی جائز سمجھتا ہے‘ اس سے تو کوئی حکمران بھی روگردانی نہیں کر سکتا۔ اگر حافظ سعید اور انکی تنظیم جہاد کشمیر میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے‘ بھارت اس پر سیخ پا ہونے کے بجائے کشمیریوں پر مظالم میں مصروف اپنی آٹھ لاکھ فوج کو واپس بلا کر کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب کا حق دے۔ جہاں تک ممبئی حملوں کا تعلق ہے‘ تو دنیا پر آشکار ہو چکا ہے کہ بھارت نے یہ ڈرامہ پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے رچایا جس میں وہ کامیاب رہا۔

وزارت خارجہ عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کردارادا کرے

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ امریکی سفیر کوڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے سلسلے میں بات چیت کیلئے دفتر خارجہ طلب کیا جائے اور ان سے ہونیوالی گفتگو کے بارے میں15 روز کے اندر اندر رپورٹ پیش کی جائے جبکہ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عافیہ کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے معاملہ بہت زیادہ الجھ گیا ہے۔عافیہ صدیقی کو 30 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ عافیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہے۔ پہلے تو اسے حکمرانوں نے ڈالروں کی خاطر امریکہ کے حوالے کیا۔ وہ اسے افغانستان کے عقوبت خانے لے گئے اسے تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ امریکہ لے جا کر بھی اس کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔ وزارت خارجہ کو یہ مظالم تو دکھائی نہیں دیتے عافیہ کے بیانات یاد آرہے ہیں۔کتنی شرم کی بات ہے کہ وزارت خارجہ قوم کی بیٹی کی رہائی کیلئے کوششیں کرنے کے بجائے قوم کو 30سال کی سزا کی روح فرسا خبر سنا رہی ہے ۔ حال ہی میں برطانیہ نے پاکستانی نژاد بچے کے اغواء پر اپنی پوری مشینری کو متحرک کردیا تھا اور دوسری طرف ہماری حکومت ایسے معاملات میںمحوِ خواب ہوجاتی ہے ۔ہم تو محمد بن قاسمؒ کو اپنا ہیرو ماننے والے ہیں دو سیّدوں کے برسر اقتدار آنے کے باوجود صدیقی خاندان کی بیٹی کفارکی تحویل میں آخر کیوں؟ کیا ہم لوگ اتنے بے حس ہوچکے ہیں؟ ہمارے دل مردہ کیوں ہوچکے ہیں، آخر ہمارا ضمیر کب بیدار ہوگا، ایسے معاملات میں ہماری تاریخ تو ایسی نہ تھی۔ عافیہ صدیقی کا فیصلہ اگست میں سنایاجائیگا۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ کو متحرک ہو کر فیصلہ کن کردارادا کرناچاہئے، عافیہ صدیقی کے کیس کو اپنی ترجیحات میں شامل کر کے اسکی رہائی کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ عوام کویورپ کے مسلمان دشمنی پر مبنی فیصلوں سے آگاہ رہنا چاہئے‘ کفار ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہوئے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں او رہم شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبائے بیٹھے ہیں۔یہ رویہ ہمیں تباہی کی طرف لے جائیگا۔

انجمن احمدیہ پاکستان کے ڈائریکڑ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے فرقے کے خلاف معاشرے میں پائی جانے والی نفرت سانحہ لاہور کی تحقیقات کو متاثرکرسکتی ہیں۔

ـ 18 گھنٹے 56 منٹ پہلے شائع کی گئی

Adjust Font Size

یہ بات مرزاغلام احمد نے گڑھی شاہوکی عبات گاہ دارالذکرمیں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہا کہ ان کے فرقے سے منسلک لوگ پاکستان کے شہری ہیں اورانکا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے وقت ماڈل ٹائون کی عبادت گاہ بیت النورکے سی سی ۔ ٹی وی کیمرے لوڈشیڈنگ کے باعث کام نہیں کرسکے جبکہ دارالذکر میں خفیہ کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج انہوں نے تحقیقاتی اداروں کے سپرد کردی ہے۔ انجمن احمدیہ کے عہدیدار کے مطابق ان کوملنے والی دھمکیوں کے باوجود حکومت کی جانب سے انکی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ انہوں نے حکومت سے دہشت گردی کی اس اندوہناک کارروائی میں ہلاک ہونے والے افراد کیلئے مالی اعانت طلب نہیں کی تاہم ابھی تک کسی حکومتی ادارے نے تحقیقات کے حوالے سے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

صدر کے دوست معروف تاجر ریاض لال جی لاپتا

کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب سے صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست اور معروف تاجر العباس گروپ کے ڈائریکٹر ریاض لال جی کو ڈرائیور اور گن مین کے ساتھ اغوا کرلیا گیا‘ریاض لال جی اتوار کی صبح 5 بجے دبئی سے کراچی آئے تھے۔ ریاض لال جی کی کمپنی پر نیب اور ایف آئی اے کے متعدد مقدمات درج تھے تاہم کسی بھی مقدمے میں وہ خود نامزد نہیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ایئر پورٹ کے قریب واقع سپر مارکیٹ سے معروف تاجر اور العباس گروپ کے ڈائریکٹر ریاض لال جی کو ڈرائیور ‘گن مین اور گاڑی سمیت اغوا کرلیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ تھانے میں اغواءکا مقدمہ کرنل ریٹائرڈ طاہر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 284/10درج کرلیا گیا ہی‘ مغوی تاجر کی گاڑی واقع کے 3 گھنٹے بعد ایئرپورٹ تھانے کی حدود شاہراہ فیصل سے برآمد کرلی گئی ہے تاہم مغوی تاجر‘ ان کا گین مین اور ڈرائیور تاحال لاپتا ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مغوی تاجر ریا ض لال جی صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست بتائے جاتے ہیں اور ان پر کرپشن کے متعددالزامات بھی ہیں جبکہ ان کی کمپنی العباس گروپ پر ایف آئی اے اور نیب کی جانب سے متعدد مقدمات درج ہیں تاہم وہ کسی بھی مقدمہ میں نامزد نہیںہیں۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ معظم جاہ نے آن لائن کو بتایا کہ ایف آئی اے کی جانب سے العباس گروپ پر کرپشن کا ایک ہی مقدمہ درج ہے تاہم مقدمہ میں ریاض لال جی نامزد نہیں ہیں‘مقدمہ میں صرف ان کے ڈائریکٹر آپریشن اور دیگر افسران ملوث ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض لال جی کی گرفتاری کیلئے کرپشن کے الزامات کے تحت 19نومبر1999ءکو ان کا وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیا تھا تاہم اس حوالے سے کسی بھی سرکاری ادارہ نے تصدیق نہیں کی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ انہیں خفیہ اداروں نے انہیں حراست میں لیا ہوگا تاہم پولیس کے اعلیٰ افسران اس کی تصدیق نہیں کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض لال جی کسی سیمنٹ فیکٹری کی خریداری میں دلچسپی رکھتے تھے اسی لیے وہ اتوار کو کراچی آئے تھے۔ علاوہ ازیں ڈی جی ایف آئی اے ظفراللہ خان نے کہا ہے کہ ایف آئی اے نے تاجر ریاض لال جی کو گرفتار نہیں کیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیل مل کیس کی تحقیقات جاری ہیں لیکن ایف آئی اے نے ریاض لال جی کو اپنی تحویل میں نہیں لیا۔مزید برآں سی سی پی او کراچی وسیم احمد نے ریاض لال جی کی بازیابی کے لیے تحقیقاتی کمیٹی ڈی آئی جی ایسٹ عبدالخالق کی سربراہی میں تشکیل دے دی ہے۔ واضح رہے کہ ریاض لال جی اسٹیل مل کرپشن کیس اور رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کیس سمیت متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔

کرپشن میں ترقی

مظفر اعجاز

یہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل والے بھی عجیب ہوتے ہیں جب کوئی حکومت بڑھ چڑھ کر بھی پھول رہی ہوتی ہے تو اپنی رپورٹ جاری کردیتے ہیں تازہ ترین رپورٹ میں کہاگیاہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کی شرح میں اضافہ ہواہے اورحکومتی عہدیداران اس میں سرفہرست ہیں۔ رشوت 4 سوفیصد بڑھ گئی ہے پولیس اور پاور کے ادارے حسب معمول کرپشن میں پہلی اور دوسری پوزیشن پررہے ہیں۔ بدعنوانی کی کسی حدتک روک تھام کے لیے قائم احتساب بیوروختم ہوچکاہے۔ ٹرانسپیرنسی نے سب سے اہم بات یہ کی ہے کہ پارسائی کے دعویداروں کے نام بھی جاری کردیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرپشن میں وزیراعظم وفاقی وزیرمنظور وٹو غلام احمد بلور‘ اعجاز جاکھرانی‘ اور نذرگوندل نمایاں ہیں۔ غیرنمایاں ہونے کا مطلب یہ نہیں لیاجانا چاہیے کہ وہ کرپشن میں پیچھے نہیں ‘ہوسکتاہے کہ غیرنمایاں لوگ زیادہ صفائی سے کام دکھارہے ہوں۔ اخبارنے تو لکھاہے کہ ٹرانسپیرنسی نے ہوش اڑادینے والے حقائق کی نشاندہی کی ہے لیکن ہمارے خیال میں تو ہم ٹرانسپیرنسی سے زیادہ جانتے ہیں ٹرانسپیرنسی والوں کے بھی کہیں نہ کہیں پرجل رہے ہوتے ہیں۔ البتہ رپورٹ سے چشم کشا سال 2004ءمیں 45 ارب روپے کی کرپشن ہوئی تھی جبکہ 2009ءمیں یہ 195 ارب ہوچکی ہے۔ ایک اچھی خبریہ ہے کہ کرپشن میں عدلیہ کا ساتواں نمبرہوگیاہے پہلے ماتحت عدلیہ میں کرپشن کی وجہ سے عدلیہ کرپشن میں دوسرے نمبرپر تھی۔ اب عدالتی اصلاحات نے خاصی تبدیلی پیدا کی ہے ۔ادارے نے اچھی تجاویز دی ہیں پوری پاکستانی قوم ان تجاویز کا مطالبہ کرتی رہی ہے لیکن یہ کام کرے گا کون….ادارے نے تجویز دی ہے کہ حکومت اور فوجی افسروں کو کاروباراورتجارتی سرگرمیوں سے الگ رہنا چاہیے دوسری اہم بات جو دراصل سب سے اہم ہے اس کی جانب بھی ٹرانسپیرنسی نے توجہ دلائی ہے کہ این آر او کی موجودگی میں کرپشن کاخاتمہ ممکن نہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ این آر او کرپشن کے بادشاہوں کو ٹرانسپیرنسی کی فہرست سے بھی نکال دیاہے ٹرانسپیرنسی نے کرپشن کے حوالے سے کچھ مثالیں بھی دی ہیں جن میں صوبہ سرحدمیں سرکاری اراضی سے سرکاری لکڑی دس ارب روپے کے بجائے ایک ارب میں فروخت کرنے کا اسکینڈل سامنے آیاتھا لیکن حکومت نے اس پرکارروائی روک دی جبکہ اہم شخصیات سے نیب کو دور رہنے کا مشورہ پہلے ہی دیاجاچکاہے۔ کرپشن کی اس سے زیادہ مثال اور کیاہوگی کہ اہم شخصیات وزراءاور رشتہ داروں کو پہلے ہی استثنیٰ مل جائے۔ صوبہ سرحد کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین کو قیمتی اراضی کوڑیوں کے مول الاٹ کرنے کا اسکینڈل بھی دیاگیا۔ یہ تو وہ اسکینڈل ہیں جو سامنے آگئے۔ لیکن چینی ‘آٹے‘گندم وغیرہ کے اسکینڈلوں کا کیا ہوگا جس روز ان دنوں پردہ اٹھ گیا اس روز تو پوری حکومت لپیٹ میں آجائے گی۔ عام طورپر کہاجاتاہے کہ سرکاری شعبہ سے باہربھی کرپشن ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ اگر سرکار میں کرپشن نہ ہوتو کوئی نجی شعبہ کرپشن کی جرات نہیں کرسکتا۔ ہمیں نہیں پتا کہ ٹرانسپیرنسی کے نزدیک 195 ارب روپے بہت ہیں یا کم لیکن جوکرپشن ہم جانتے ہیں اس اعتبارسے تو ایک سال میں اتنی کرپشن صرف کراچی بلڈنگ کنٹرول ‘ محکمہ اراضی اور مہذب ہوجاتی ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے نے حال ہی میں ایک رہائشی منصوبہ لانچ کیاہے۔ ان کا کہناہے کہ ان کی زمین قانونی‘ ان کی خریدوفروخت کے کاغذات قانون کے مطابق ٹرانسفر لیکن پروجیکٹ کی لانچنگ سے قبل انہیں سواکروڑ روپے تک رشوت دینی پڑتی تھی ان کا کہناتھا کہ ابھی یہ رقم دوکروڑ تک جائے گی۔ اس کرپشن میں حصہ دارصوبائی حکومت کے دواہم گروپ اور بلڈنگ کنٹرول کے اعلیٰ افسران ہیں۔ یہ بات بھی سارے شہرمیں گشت کررہی ہے کہ تین لینڈ میں ہرہفتے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور رشوت کے مال کی ایمانداری سے تقسیم ہوتی ہے۔ ایمانداری سے اس لیے ہوتی ہے کہ ہرجگہ ہرعلاقے کی زمین اور اس کی پیمائش کے مطابق رشوت کے ریٹ مقررہیں چنانچہ سرکاری کھاتوں میں صرف ٹرانسفرنقشوں کی منظوری اوردیگر تبدیلیوں کے اندراج کے مطابق حساب کتاب ہوجاتاہے یہ رشوت لینے والے کی صلاحیت ہے کہ طے شدہ ریٹ سے زیادہ ریٹ لے اڑے حساب کتاب صرف طے شدہ ریٹس کی بنیادپرہوتاہے۔ صرف کراچی میں بلڈنگ کنٹرول واٹربورڈ‘ کے ای ایس سی سائٹ وغیرہ ایسے ادارے ہیں کہ ایک ایک ادارہ سال بھرمیں 195 ارب کی کرپشن کرسکتاہے۔ اگر ایک پروجیکٹ کی لانچنگ سے قبل دوکروڑ روپے رشوت دی جاسکتی ہے تو پھر بڑے بڑے بلڈرزکتنی رقوم دیتے ہوں گے۔ یہی نہیں جب ان پروجیکٹس سے زمین حاصل کرنے والے انہیں اپنے نام کروانے اور تعمیرات کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو یہی محکمے پھرمنہ پھارے کھڑے ہوتے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی کی خدمت میں دوچارمثالیں اورایک مثال تو ہمارے اپنے ماہنامہ بساط میگزین کی ہے۔ اس کو میڈیالسٹ میں شامل کرانے کے لیے ہم نے درخواست اسلام آباد بھیجی تو کئی ہفتے بعد جواب ملاکہ متعلقہ افسر5 ہزار روپے رشوت مانگ رہاہے۔ ہم نے کہاکہ ارے یہ کون سا ایسا کام ہے کہ اس کے لیے بھی رشوت دی جائے ہم نے محکمہ کے ان تمام افسران کو فون کیا جنہیں ہم جانتے ہیں اس کے بعد متعلقہ افسرکو فون بھی کروایا۔ پھرہرکارہ بھیجا تو اس نے کہاکہ اب اس کام کے دس ہزارہوں گے ہم نے وفاقی سیکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل صاحب سے فون پر شکایت کی اور درخواست کی کہ مہربانی فرمائیں انہوں نے اس وقت ٹیلی فون پر یہ ہدایات دیں کہ یہ کام ہوجانا چاہیے۔ لیکن کام اب تک نہیں ہواہے۔یاکم ازم ہمیں اس کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ ان سطورکی اشاعت کے بعد شاید معاملہ 25 ہزار تک پہنچ جائی….جب وفاقی سیکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل صاحب ایک سیکشن افسرکے سامنے بے بس ہوسکتے ہیں۔ توکرپشن کے جن کو احتساب بیورویا حکومت کیونکرقابوکرسکتی ہے۔ ایک اور مثال بھی لیں ہمارے ایک اور دوست نے زمین فروخت کردی ان کو پیسوں کی شدید ضرورت تھی ٹرانسفر اوردیگر امور میں متعلقہ محکمہ کے افسرنے ان سے دولاکھ روپے کامطالبہ کردیا۔ وہ صاحب صوبائی وزیرکے دوست ہیں فوراً ان کے آفس پہنچے اور کہاکہ فلاں علاقے کا تپے دار میرے کام کے دولاکھ مانگ رہاہے اس وزیر نے اس وقت فون کرکے کہاکہ میرا آدمی کل صبح آرہاہے اس سے تم رشوت مانگتے ہو۔ شرم کرو بے غیر تو ….اگلے روز وہ صاحب جب کاغذات لے کرتپے دارکے دفترپہنچے تو بڑی آﺅ بھگت ہونی چاہیے لیکن پروٹوکول ملا کاغذات پیش کیے۔ تو بتایاگیا کہ اب تین لاکھ ہوں گی….یہ کس بات کی؟….تو انہیں جواب ملاکہ ایک لاکھ وزیرکی….اسے یقین نہ آیا۔ اس نے اس وقت وزیرکوفون ملایا لیکن دوہفتے تک وزیرصاحب نے فون بھی نہیں اٹھایا۔ چنانچہ مجبوراً اس نے منتیں کرکے دوہی لاکھ میں یہ کام کردیا۔ ابھی حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کراچی پاسپورٹ آفس میں چھاپہ مارکر دوافراد کو معطل کیا تھا تاکہ وہاں کرپشن نہ ہو۔ اس روز دوپہر تک تو وزیر داخلہ کے نام پر عوام کو خوفزدہ کیاجاتا رہا پھر فارم دینے کے تین تین سو روپے لیے گئے ‘کاﺅنٹر بند ہونے کے باوجود ایجنٹ اندرکھڑے ہوکر ہمارے سامنے کیش پر معاملہ کررہے تھے۔ اب ایجنٹوں کے ریٹ بھی بڑھ گئے ہیں۔ صرف کراچی سائٹ کو لے لیں یہ پاکستان بلکہ ایشیا کا سب سے بڑا صنعتی علاقہ ہے یہاں ایک ایک سب انجینئر اور عام انجینئر جو کمارہاہے اس کا اندازہ تو ٹرانسپیرنسی والے نہیں کرسکتے۔ سروے کرنے والوں کے الگ کھانچے ہوتے ہیں اور دستخط کرنے والوں کے الگ صرف سائٹ میں سالانہ اربوں روپے کی ہیرپھیرہوجاتی ہے۔ دوارب کی زمین کو 20 کروڑ کا ظاہرکرنے میں کتنی دیرلگتی ہے صرف چمک دکھانے کی دیرہے۔ اسی طرح پروڈکشن اوردیگر امور تجاوزات قائم کرنا اور ان پر دوسروں کو تعمیرات کی اجازت دینا۔ 195 ارب تو صرف کراچی میں سرکاری اراضی اورپارکوں پر تعمیرات کرکے ہڑپ کرلیے گئے ہوں گے۔ بہرحال ٹرانسپیرنسی نے اتنا تو بتایاکہ پاکستان ترقی کررہاہے۔ آصف زرداری جنرل پرویزکے مقابلہ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرا دور آپ سے 2 سو فیصد آگے ہے۔

About these ads

About methemoosa

Am 36, Hardworking and innovative type of person with sound integrity. I have dedicated my life to eliminate corruption.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s